حدیث نمبر: 14625
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا رِبْعِيُّ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ رَآنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آخُذُ اللَّحْمَ عَنِ الْعَظْمِ بِيَدِيَّ فَقَالَ لِي: " يَا صَفْوَانُ " قُلْتُ: لَبَّيْكَ قَالَ: " قَرِّبِ اللَّحْمَ مِنْ فِيكَ إِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ ".
حافظ ثناء اللہ
عثمان بن ابو سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے ہڈی کا گوشت پکڑا ہوا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے صفوان!“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ فرمایا: ”گوشت کو اپنے منہ کے قریب کرو؛ کیونکہ یہ بڑا، لذیذ اور مزے دار ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 14626
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا أَبُو الرَّبِيعِ، نا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ صُنْعِ الْأَعَاجِمِ وَلَكِنِ انْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم گوشت کو چھری سے نہ کاٹو کیونکہ یہ عجمیوں کی عادت ہے، بلکہ ہڈی سے نوچ کر کھایا کرو کیونکہ یہ زیادہ زود ہضم ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 14627
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ سَلْمَوَيْهِ نا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ السُّلَمِيُّ، نا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانَ الْبَصْرِيُّ، نا أَبُو مَعْشَرٍ، نا هِشَامٌ، نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
خالی
حدیث نمبر: 14628
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ نا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَكَّانِيُّ، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَحُزُّ مِنْ ⦗٤٥٧⦘ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ قَطْعِهِ بِالسِّكِّينِ، وَإِنَّ الْخَبَرَ الَّذِي قَبْلَهُ إِنْ صَحَّ، فَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ إِذَا نَهْسَهُ كَانَ أَطْيَبَ كَالْخَبَرِ الْأَوَّلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ نبی ﷺ بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کر کھا رہے تھے، جب نماز کے لیے اذان دی گئی تو گوشت اور چھری کو رکھ دیا۔ پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور وضو نہ فرمایا۔
نوٹ: یہ حدیث چھری کے ساتھ کاٹنے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر پہلے والی حدیث صحیح ہو تو نوچ کر کھانا زیادہ بہتر ہے۔
نوٹ: یہ حدیث چھری کے ساتھ کاٹنے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر پہلے والی حدیث صحیح ہو تو نوچ کر کھانا زیادہ بہتر ہے۔