کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بیان میں کہ جو چیز بھی کھانے کے لیے پیش کی جائے اسے حقیر نہ سمجھا جائے۔
حدیث نمبر: 14624
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا فَقَالَ: كُلُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ، إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ فَيَحْتَقِرَ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ، وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک گروہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے ان کے سامنے روٹی اور سرکہ رکھا اور کہا: کھاؤ؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بہترین سالن سرکہ ہے، آدمی کی ہلاکت کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کے پاس اس کے بھائی آئیں تو گھر کی چیز ان کو پیش کرنے میں حقیر سمجھے اور لوگوں کی ہلاکت کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ پیش کردہ چیز کو حقیر سمجھیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14624
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»