کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ہر دعوت میں شریک ہونے کا بیان خواہ وہ شادی کی ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ نَافِعٍ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کو تمہارا بھائی شادی یا اس کے علاوہ کی دعوت دے تو وہ اس کو قبول کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى عُرْسٍ أَوْ نَحْوِهِ فَلْيُجِبْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ بَقِيَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہیں شادی یا کوئی دوسری دعوت دی جائے تو قبول کرو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا حَجَّاجٌ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا "، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَأْتِي الدَّعْوَةَ فِي الْعُرْسِ وَغَيْرِ الْعُرْسِ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حَجَّاجٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ الْحَجَّاجِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس دعوت کو قبول کرو جب تمہیں یہ دعوت دی جائے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما شادی یا دوسری دعوت میں آجاتے تھے اگرچہ روزہ دار بھی ہوتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ فَأَجِيبُوا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، ⦗٤٢٩⦘ وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ فِيمَا يَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہیں پائے (کے معمولی کھانے) کی طرف دعوت دی جائے تو قبول کرو۔“
(ب) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مسلمان اپنے بھائی کی دعوت قبول کرے۔“
(ب) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مسلمان اپنے بھائی کی دعوت قبول کرے۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: قَالَ الْبَرَاءُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ وَالْقَسِّيَّةِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ أَشْعَثَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات کام کرنے کا حکم دیا اور سات کاموں سے منع فرمایا ہے: ”مریض کی عیادت کرنا، جنازے کے پیچھے چلنا، چھینک کا جواب دینا، قسم کو پورا کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، سلام کو عام کرنا اور دعوت کو قبول کرنا۔“ اور جن سات کاموں سے منع فرمایا: ”سونے کی انگوٹھی، چاندی کے برتن، ریشمی سرخ گدوں سے، ریشمی لباس، نفیس کپڑا، موٹا ریشم اور عام ریشم سے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ رَدُّ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ إِذَا دَعَاهُ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان بھائی کی پانچ چیزوں کا جواب دینا مسلمان پر واجب ہے: سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا، دعوت کو قبول کرنا، مریض کی بیمار پرسی کرنا اور جنازہ پڑھنا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرَيْشٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَهُ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَقَدْ كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ كَثِيرًا فَإِذَا سُئِلَ عَنْهُ أَسْنَدَهُ، وَقَدْ أَسْنَدَهُ الْأَوْزَاعِيُّ، وَيُونُسُ بْنُ زَيْدٍ وَعُقَيْلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث متصل سند کے ساتھ نقل فرماتے ہیں۔
معمر اس حدیث کو اکثر مرسل بیان کرتے تھے، جب ان سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو اسے سند کے ساتھ بیان کرتے، اور اوزاعی، یونس بن زید اور عقیل نے بھی اسے سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔
معمر اس حدیث کو اکثر مرسل بیان کرتے تھے، جب ان سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو اسے سند کے ساتھ بیان کرتے، اور اوزاعی، یونس بن زید اور عقیل نے بھی اسے سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔