أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَجُلٍ أَعْوَرَ مِنْ ثَقِيفٍ كَانَ يُقَالُ لَهُ مَعْرُوفًا أَيْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا إِنْ لَمْ يَكُنِ اسْمُهُ زُهَيْرَ بْنَ عُثْمَانَ فَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ، وَالثَّانِيَ مَعْرُوفٌ، وَالْيَوْمَ الثَّالِثَ سُمْعَةٌ وَرِئَاءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عثمان ثقفی رحمہ اللہ ثقیف کے ایک کانے شخص سے نقل فرماتے ہیں جس کی تعریف ہی کی جاتی تھی، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہ ہو تو میں اس کے نام کو نہیں جانتا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پہلے دن ولیمہ حق ہے جبکہ دوسرے دن بھلائی اور تیسرے دن کا شہرت اور ریا کاری ہے۔“
قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ " دُعِيَ أَوَّلَ يَوْمٍ فَأَجَابَ، وَالثَّانِيَ فَأَجَابَ، وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَلَمْ يُجِبْ وَقَالَ: " أَهْلُ سُمْعَةٍ وَرِئَاءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو جب پہلے یا دوسرے دن کے ولیمہ کی دعوت دی جاتی تو قبول فرماتے، لیکن تیسرے دن قبول نہ فرماتے اور کہتے: یہ شہرت اور ریا کاری ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: " دُعِيَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَوَّلَ يَوْمٍ فَأَجَابَ، وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّانِيَ فَأَجَابَ، وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَحَصَبَهُمْ بِالْبَطْحَاءِ وَقَالَ " اذْهَبُوا أَهْلَ رِئَاءٍ وَسُمْعَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسیب رحمہ اللہ ولیمہ کے پہلے اور دوسرے دن کی دعوت قبول فرماتے، لیکن تیسرے دن ان کو کنکریاں مارتے تھے اور فرماتے: ”چلے جاؤ، اے ریا کاری اور شہرت والے لوگو!“
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِمْلَاءً، ثنا جَدِّي أَبُو عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ قَالَا: ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَعَامُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ، وَالثَّانِيَ مِثْلَهُ " وَفِي رِوَايَةِ السُّلَمِيِّ: " طَعَامُ يَوْمٍ حَقٌّ، وَطَعَامُ يَوْمَيْنِ سُنَّةٌ، وَطَعَامُ الْيَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَةٌ وَرِئَاءٌ، وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللهُ بِهِ " وَلَمْ يَذْكُرِ السُّلَمِيُّ قَوْلَهُ: رِئَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پہلے اور دوسرے دن کے ولیمہ کا کھانا حق ہے۔“ سلمیٰ کی روایت میں ہے کہ ”ایک دن کا کھانا حق، دو دن کا سنت اور تیسرے دن کا کھانا ریاکاری اور شہرت ہے اور جس نے شہرت کی اللہ اس کی شہرت کر دیں گے“ اور سلمیٰ نے ریا کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَيَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، فَذَكَرَهُ، وَلَيْسَ هَذَا بِقَوِيٍّ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَحَدِيثُ الْبَكَّائِيِّ أَيْضًا غَيْرُ قَوِيٍّ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
بکر بن خنیس نے بھی (دوسری سند سے) یہی حدیث ذکر کی ہے۔
یہ روایت قوی نہیں ہے، بکر بن خنیس پر محدثین نے کلام کیا ہے اور بکائی کی حدیث بھی قوی نہیں ہے، اور یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی بیان کی گئی ہے لیکن وہ کچھ بھی نہیں۔
یہ روایت قوی نہیں ہے، بکر بن خنیس پر محدثین نے کلام کیا ہے اور بکائی کی حدیث بھی قوی نہیں ہے، اور یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی بیان کی گئی ہے لیکن وہ کچھ بھی نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ، فِي حَدِيثِ زُهَيْرِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: لَمْ يَصِحَّ إِسْنَادُهُ وَلَا يُعْرَفُ لَهُ صُحْبَةٌ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيُجِبْ " " وَلَمْ يَخُصَّ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَا غَيْرَهَا وَهَذَا أَصَحُّ وَذَكَرَ حِكَايَةَ ابْنِ سِيرِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب بھی تم میں سے کسی کو دعوتِ ولیمہ دی جائے تو وہ قبول کرے“، آپ ﷺ نے تین دن یا اس کے علاوہ کی تخصیص نہیں فرمائی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے زہیر بن عثمان کی حدیث کے بارے میں فرمایا: اس کی سند صحیح نہیں اور ان کا صحابی ہونا معروف نہیں، اور یہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما والی) روایت زیادہ صحیح ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے زہیر بن عثمان کی حدیث کے بارے میں فرمایا: اس کی سند صحیح نہیں اور ان کا صحابی ہونا معروف نہیں، اور یہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما والی) روایت زیادہ صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ حَرْبٍ ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ سِيرِينَ، عَرَّسَ بِالْمَدِينَةِ " فَأَوْلَمَ فَدَعَا النَّاسَ سَبْعًا " وَكَانَ فِيمَنْ دَعَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، " فَجَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ فَدَعَا لَهُمْ بِخَيْرٍ وَانْصَرَفَ " وَكَذَا قَالَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ سَبْعًا إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ حَفْصَةَ فِي إِسْنَادِهِ، ⦗٤٢٦⦘ وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ ثَمَانِيَ أَيَّامٍ وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ
حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ سیرین نے مدینہ میں شادی کی تو انہوں نے لوگوں کو سات دن تک ولیمہ کھلایا، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بھی دعوت دی تھی، وہ روزہ دار تھے، وہ آئے اور برکت کی دعا کر کے چلے گئے۔
حماد بن زید رحمہ اللہ حضرت ایوب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، لیکن انہوں نے حفصہ کا تذکرہ نہیں کیا۔ معمر نے ایوب سے آٹھ دن نقل کیے ہیں، لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔
حماد بن زید رحمہ اللہ حضرت ایوب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، لیکن انہوں نے حفصہ کا تذکرہ نہیں کیا۔ معمر نے ایوب سے آٹھ دن نقل کیے ہیں، لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: " تَزَوَّجَ أَبِي فَدَعَا النَّاسَ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ فَدَعَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فِيمَنْ دَعَا فَجَاءَ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ صَائِمٌ وَصَلَّى يَقُولُ: " دَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ خَرَجَ " وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے شادی کے موقع پر لوگوں کو آٹھ دن تک کھانے کی دعوت دی، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بھی دعوت دی تھی جس دن وہ آئے روزہ دار تھے۔ انہوں نے دعا کی، یعنی برکت کی دعا کی اور چلے گئے۔