کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے نکاح کا عقد مطلق کیا اور اس میں کوئی شرط نہ رکھی تو نکاح ثابت ہو جائے گا اگرچہ ان دونوں کی یا ان میں سے کسی ایک کی نیت حلالہ کرنے کی ہو۔
حدیث نمبر: 14195
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّ النِّيَّةَ حَدِيثُ النَّفْسِ وَقَدْ وُضِعَ عَنِ النَّاسِ مَا حَدَّثُوا بِهِ أَنْفُسَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ نیت دل کی بات ہے، اور لوگوں سے ان باتوں (کا مؤاخذہ) معاف کر دیا گیا ہے جو وہ اپنے دلوں میں سوچتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 14195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجَاوَزَ ⦗٣٤١⦘ اللهُ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ "، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَفِي رِوَايَةِ هِشَامٍ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو انسان کے دل و دماغ میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں اللہ نے میری امت سے معاف کر دیے ہیں جب تک زبان سے نہ کہے یا عمل نہ کرے۔“
(ب) ہشام کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے۔“
(ب) ہشام کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 14196
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " طَلَّقَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ امْرَأَةً لَهُ فَبَتَّهَا، فَمَرَّ بِشَيْخٍ وَابْنٍ لَهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فِي السُّوقِ قَدِمَا لِتِجَارَةٍ لَهُمَا، فَقَالَ لِلْفَتَى: هَلْ فِيكَ مِنْ خَيْرٍ؟ ثُمَّ مَضَى عَنْهُ ثُمَّ كَرَّ عَلَيْهِ فَكَمِثْلِهَا، ثُمَّ مَضَى عَنْهُ ثُمَّ كَرَّ عَلَيْهِ فَكَمِثْلِهَا قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَأَرِنِي يَدَكَ فَانْطَلَقَ بِهِ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ وَأَمَرَهُ بِنِكَاحِهَا فَنَكَحَهَا فَبَاتَ مَعَهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ اسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَإِذَا هُوَ قَدْ وَلَّاهَا الدُّبُرَ، فَقَالَتْ وَاللهِ لَئِنْ طَلَّقَنِي لَا أَنْكِحُكَ أَبَدًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَاهُ فَقَالَ: " لَوْ نَكَحْتَهَا لَفَعَلْتَ بِكَ كَذَا وَكَذَا وَتَوَاعَدَهُ، وَدَعَا زَوْجَهَا فَقَالَ: " الزَمْهَا "، وَزَادَ فِيهِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فَقَالَ وَقَالَ: " وَإِنْ عَرَضَ لَكَ أَحَدٌ بِشَيْءٍ فَأَخْبِرْنِي بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قریشی شخص نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دے دی تو وہ بازار میں ایک دیہاتی شیخ اور اس کے بیٹے کے پاس سے گزرا جو تجارت کی غرض سے بازار آئے تھے۔ پھر اس نے جوان سے کہا: کیا تیرے اندر بھلائی ہے؟ وہ ان کے پاس سے چلا گیا، پھر دوبارہ پلٹ کر آیا، اس نے ویسے ہی کہا، پھر وہ چلا گیا۔ اس نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: مجھے اپنا ہاتھ دکھاؤ۔ پھر وہ اس کے ساتھ گیا اور اسے خبر دی اور اس عورت سے نکاح کا حکم دیا۔ اس نے اس عورت کے ساتھ رات گزاری۔ جب اس نے صبح کی اور اجازت طلب کی تو اجازت مل گئی۔ پھر وہ اچانک اس سے پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا تو اس عورت نے کہا: اگر اب اس نے مجھے طلاق دی تو میں آئندہ کبھی بھی اس سے نکاح نہ کروں گی۔ اس بات کا تذکرہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ہوا تو انہوں نے اس کے خاوند کو بلایا اور فرمایا: اگر تو نے اس عورت سے نکاح کیا تو میں تیرے ساتھ اس طرح کروں گا اور اس کو ڈرایا اور فرمایا: اس کو لازم پکڑو اور دوسری جگہ ہے کہ فرمایا: اگر کوئی چیز آپ کے لیے پیش آئے تو مجھے خبر دینا۔
حدیث نمبر: 14197
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ امْرَأَةً طَلَّقَهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا، وَكَانَ مِسْكِينٌ أَعْرَابِيٌّ يَقْعُدُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: هَلْ لَكَ فِي امْرَأَةٍ تَنْكِحُهَا فَتَبِيتُ مَعَهَا اللَّيْلَةَ، وَتُصْبِحُ فَتُفَارِقُهَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَكَانَ ذَلِكَ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: إِنَّكَ إِذَا أَصْبَحْتَ فَإِنَّهُمْ سَيَقُولُونَ لَكَ فَارِقْهَا فَلَا تَفْعَلْ ذَلِكَ، فَإِنِّي مُقِيمَةٌ لَكَ مَا تَرَى وَاذْهَبْ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَتْ أَتَوْهُ وَأَتَوْهَا، فَقَالَتْ: كَلِّمُوهُ فَأَنْتُمْ جِئْتُمْ بِهِ فَكَلِّمُوهُ فَأَبَى، فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " الزَمِ امْرَأَتَكَ فَإِنْ رَابُوكَ بِرِيبَةٍ فَأْتِنِي "، وَأَرْسَلَ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَشَتْ لِذَلِكَ فَنَكَّلَ بِهَا، ثُمَّ كَانَ يَغْدُو عَلَى عُمَرَ وَيَرُوحُ فِي حُلَّةٍ فَيَقُولُ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَاكَ يَا ذَا الرُّقْعَتَيْنِ حُلَّةً تَغْدُو فِيهَا وَتَرُوحُ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَسَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مُسْنَدًا شَاذًّا مُتَّصِلًا عَنِ ابْنِ سِيرِينَ يُوصِلُهُ عَنْ عُمَرَ مِثْلَ هَذَا الْمَعْنَى.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، وہ مسکین دیہاتی تھا، مسجد کے دروازے پر بیٹھا رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: تو نے فلاں عورت سے شادی کے بعد ایک رات گزار کر اس کو جدا کر دیا؟ اس نے کہا: ہاں۔ وہ اسی طرح تھا کہ اس کی بیوی نے کہہ دیا: جب تو صبح کرے تو وہ کہہ دیں کہ تو اس کو جدا کر تو ایسا نہ کرنا۔ میں تیرے پاس ہی رہوں گی، تیرا کیا خیال ہے؟ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا۔ جب عورت نے صبح کی تو اس کے ورثاء مسکین اعرابی کے پاس آئے تو وہ مسکین عورت کے پاس آیا۔ اس عورت نے کہا: تم اس مسکین سے بات کرو۔ تم مجھے اس کے پاس لے کر آئے تھے۔ انہوں نے بات کی، لیکن مسکین نے انکار کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا تو انہوں نے فرمایا: اپنی بیوی کو لازم پکڑو، اگر کوئی شک ہو تو میرے پاس آ جانا، پھر اس عورت کے پاس گیا جو اس کے لیے لائی گئی تھی۔ اس کو عبرتناک سزا دی۔ پھر وہ مسکین صبح و شام حلہ پہن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دربار میں آیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ تمام تعریفیں اس ذات کی ہیں جس نے اے چیتھڑوں والے! تجھے حلہ پہنایا، جس میں تو صبح و شام کرتا ہے۔