أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهْ فَلْيَسْتَتِرْ، وَلَا يَتَجَرَّدَانِ تَجَرُّدَ الْعِيرَيْنِ "، تَفَرَّدَ بِهِ مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَهُوَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ثَابِتًا فَمَحْمُودٌ فِي الْأَخْلَاقِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَكْرَهُ أَنْ يَطَأَهَا وَالْأُخْرَى تَنْظُرُ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنَ التَّسَتُّرِ، وَلَا مَحْمُودِ الْأَخْلَاقِ، وَلَا يُشَبِّهُ الْعِشْرَةَ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يُعَاشِرَهَا بِالْمَعْرُوفِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو پردہ کرلے اور وہ دونوں کپڑے نہ اتاریں جیسے برہنہ ہونے والے کرتے ہیں۔“
اگرچہ یہ ضعیف ہے لیکن یہ اچھے اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یہ ناپسند ہے کہ ایک وطی کر رہا ہو اور دوسری اسے دیکھ رہی ہو، اس لیے کہ یہ بھی ستر نہیں ہے اور نہ اچھا اخلاق اور نہ ہی حسن معاشرت میں شامل ہے۔ حالانکہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت رکھے۔
اگرچہ یہ ضعیف ہے لیکن یہ اچھے اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یہ ناپسند ہے کہ ایک وطی کر رہا ہو اور دوسری اسے دیکھ رہی ہو، اس لیے کہ یہ بھی ستر نہیں ہے اور نہ اچھا اخلاق اور نہ ہی حسن معاشرت میں شامل ہے۔ حالانکہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت رکھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ رَحِمَهُ اللهُ فِي حَدِيثِ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ وَالْأُخْرَى تَسْمَعُ قَالَ: كَانُوا يَكْرَهُونَ الْوَجْسَ، حَدَّثَنَاهُ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ، عَنِ الْحَسَنِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْوَجْسُ هُوَ الصَّوْتُ الْخَفِيُّ، وَقَدْ رُوِيَ فِي مِثْلِ هَذَا مِنَ الْكَرَاهَةِ مَا هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ، وَهُوَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْحَدِيثِ حَتَّى الصَّبِيُّ فِي الْمَهْدِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعبید رحمہ اللہ حضرت حسن رحمہ اللہ کی حدیث میں کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے اور دوسری سنتی ہے، فرماتے ہیں کہ وہ مخفی آواز کو بھی ناپسند کرتے تھے اور بعض میں تو اتنی کراہت بیان کی گئی ہے کہ بچہ اپنے جھولے میں بھی نہ سنے۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔
(ج) عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ صرف سونے کی حالت ہے، جماع کی نہیں۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔
(ج) عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ صرف سونے کی حالت ہے، جماع کی نہیں۔