السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الاستتار في حال الوطء باب: ہم بستری کے دوران پردہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14095
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهْ فَلْيَسْتَتِرْ، وَلَا يَتَجَرَّدَانِ تَجَرُّدَ الْعِيرَيْنِ "، تَفَرَّدَ بِهِ مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَهُوَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ثَابِتًا فَمَحْمُودٌ فِي الْأَخْلَاقِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَكْرَهُ أَنْ يَطَأَهَا وَالْأُخْرَى تَنْظُرُ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنَ التَّسَتُّرِ، وَلَا مَحْمُودِ الْأَخْلَاقِ، وَلَا يُشَبِّهُ الْعِشْرَةَ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يُعَاشِرَهَا بِالْمَعْرُوفِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو پردہ کرلے اور وہ دونوں کپڑے نہ اتاریں جیسے برہنہ ہونے والے کرتے ہیں۔“
اگرچہ یہ ضعیف ہے لیکن یہ اچھے اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یہ ناپسند ہے کہ ایک وطی کر رہا ہو اور دوسری اسے دیکھ رہی ہو، اس لیے کہ یہ بھی ستر نہیں ہے اور نہ اچھا اخلاق اور نہ ہی حسن معاشرت میں شامل ہے۔ حالانکہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت رکھے۔