حدیث نمبر: 14040
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا دُعِيَ إِلَى تَزْوِيجٍ قَالَ: " لَا تُفَضِّضُوا عَلَيْنَا النَّاسَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَصَلَّى الله عَلَى مُحَمَّدٍ، إِنَّ فُلَانًا خَطَبَ إِلَيْكُمْ فُلَانَةَ، إِنْ أَنْكَحْتُمُوهُ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَإِنْ رَدَدْتُمُوهُ فَسُبْحَانَ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن حفص فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جب نکاح کی طرف بلایا جاتا تو فرماتے: سب لوگ ہمارے پاس نہ آئیں، «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ اور «وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مُحَمَّدٍ» ”درود و سلام ہو محمد ﷺ پر“ کہ فلاں شخص نے تمہاری طرف فلاں عورت کے نکاح کا پیغام دیا ہے، اگر تم اس سے نکاح کرلو تو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“، اگر تم واپس کردو یعنی نکاح نہ کرو تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“۔