کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: صابیوں اور سامریوں میں سے ان لوگوں کا بیان جو یہودیت اور عیسائیت کے دین کی پیروی کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نَسِيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: كَتَبَ عَامَلٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ نَاسًا مِنْ قِبَلِنَا يُدْعَوْنَ السَّامِرَةَ يَسْبِتُونَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَيَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، وَلَا يُؤْمِنُونَ بِيَوْمِ الْبَعْثِ، فَمَا تَرَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي ذَبَائِحِهِمْ؟ قَالَ: فَكَتَبَ " هُمْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ذَبَائِحُهُمْ ذَبَائِحُ أَهْلِ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
غفیف بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گورنر نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ کچھ لوگ ہمارے علاقے میں ہیں جن کو سامرہ کہا جاتا ہے، وہ ہفتے کے دن مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں اور توراۃ کی تلاوت کرتے ہیں، لیکن قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے؛ اے امیر المومنین! ان کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ اہل کتاب ہیں، ان کے ذبیحہ کا حکم اہل کتاب کے ذبیحہ والا ہی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَارِمٌ، عَنْ مُعْتَمِرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ، نُبِّئَ زِيَادٌ أَنَّ " الصَّابِئِينَ يُصَلُّونَ إِلَى الْقِبْلَةِ، وَيُعْطُونَ الْخُمُسَ قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ يَضَعَ عَنْهُمُ الْجِزْيَةَ قَالَ: فَأُخْبِرَ بَعْدُ أَنَّهُمْ يَعْبُدُونَ الْمَلَائِكَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زیاد کو خبر دی گئی کہ صابی لوگ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور خمس ادا کرتے ہیں، فرمایا کہ تو اس نے ان سے جزیہ ختم کرنے کا ارادہ کیا، بعد میں خبر دی گئی کہ وہ فرشتوں کی عبادت کرتے تھے۔