کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں، ان کی لونڈیوں اور مسلمانوں کی لونڈیوں سے نکاح کا بیان ہے۔ -- باب: اہلِ کتاب کے علاوہ دیگر مشرکین کی آزاد عورتوں کی حرمت کا بیان، اور کافروں پر مومن عورتوں کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13970
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ} [الممتحنة: 10]، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَزَعَمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ أَنَّهَا أُنْزِلَتْ فِي مُهَاجِرَةٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَسَمَّاهَا بَعْضُهُمُ ابْنَةَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأَهْلُ مَكَّةَ أَهْلُ أَوْثَانٍ، وَإِنَّ قَوْلَ اللهِ تَعَالَى {وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ} [الممتحنة: 10] نَزَلَتْ فِي مُهَاجِرٍ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ مُؤْمِنًا وَإِنَّمَا نَزَلَتْ فِي الْهُدْنَةِ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ ”جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو، اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے، پھر اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ لوٹاؤ، نہ وہ (عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہیں۔“ [سورة الممتحنة: 10]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور قرآن کا علم رکھنے والے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ آیت اہلِ مکہ میں سے ایک ہجرت کرنے والی عورت کے بارے میں نازل ہوئی، اور ان میں سے بعض نے اس کا نام عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی (سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا) بتایا ہے، اور اہلِ مکہ بت پرست تھے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ ”اور کافر عورتوں کی ناموس (نکاح) کو اپنے قبضے میں نہ رکھو۔“ [سورة الممتحنة: 10] اہلِ مکہ میں سے ایک مومن مہاجر (مرد) کے بارے میں نازل ہوا، اور یہ (آیت) صلح (حدیبیہ) کے زمانے میں نازل ہوئی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور قرآن کا علم رکھنے والے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ آیت اہلِ مکہ میں سے ایک ہجرت کرنے والی عورت کے بارے میں نازل ہوئی، اور ان میں سے بعض نے اس کا نام عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی (سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا) بتایا ہے، اور اہلِ مکہ بت پرست تھے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ ”اور کافر عورتوں کی ناموس (نکاح) کو اپنے قبضے میں نہ رکھو۔“ [سورة الممتحنة: 10] اہلِ مکہ میں سے ایک مومن مہاجر (مرد) کے بارے میں نازل ہوا، اور یہ (آیت) صلح (حدیبیہ) کے زمانے میں نازل ہوئی۔“
حدیث نمبر: 13970
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي كَامِلٍ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، يُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ، فَكَانَ فِيمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا أَنَّهُ لَمَّا كَاتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ، إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ، وَأَلْغَطُوا فِيهِ وَتَكَلَّمُوا فِيهِ، فَلَمَّا أَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا عَلَى ذَلِكَ كَاتَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُهَيْلٍ يَوْمَئِذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ، إِلَّا رَدَّ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ، وَإِنْ كَانَ ⦗٢٧٧⦘ مُسْلِمًا، ثُمَّ جَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومِ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ هَاجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ فِي الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ کے دن مقررہ مدت کا معاہدہ لکھوایا، جس میں سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے شرط رکھی کہ اگر ہمارا کوئی آدمی آپ کے پاس آئے گا تو آپ کو واپس کرنا ہوگا اور آپ ہمارے اور اس شخص کے درمیان سے ہٹ جائیں گے، اور سہیل رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف فیصلہ کریں لیکن مومنوں کو یہ معاہدہ گراں گزرا، انہوں نے شور کیا اور کلام کی۔
سہیل رضی اللہ عنہ کہنے لگا کہ اس شرط پر ہی معاہدہ ہوگا تو رسول اللہ ﷺ نے لکھوا دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے سہیل رضی اللہ عنہ کے بیٹے ابوجندل رضی اللہ عنہ کو سہیل رضی اللہ عنہ کی طرف واپس کر دیا۔ اگر اس مدت میں کوئی بھی مسلمان مرد رسول اللہ ﷺ کے پاس آتا تو آپ واپس کر دیتے، پھر جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں، جن میں عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، یہ آزاد تھیں تو ان کے گھر والوں نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، پھر اللہ نے ان مومن عورتوں کے بارے میں نازل کیا جو بھی نازل فرمایا۔
سہیل رضی اللہ عنہ کہنے لگا کہ اس شرط پر ہی معاہدہ ہوگا تو رسول اللہ ﷺ نے لکھوا دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے سہیل رضی اللہ عنہ کے بیٹے ابوجندل رضی اللہ عنہ کو سہیل رضی اللہ عنہ کی طرف واپس کر دیا۔ اگر اس مدت میں کوئی بھی مسلمان مرد رسول اللہ ﷺ کے پاس آتا تو آپ واپس کر دیتے، پھر جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں، جن میں عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، یہ آزاد تھیں تو ان کے گھر والوں نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، پھر اللہ نے ان مومن عورتوں کے بارے میں نازل کیا جو بھی نازل فرمایا۔
حدیث نمبر: 13971
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذَكَرَ قِصَّةَ الْحُدَيْبِيَةِ بِطُولِهَا قَالَ: ثُمَّ جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ} [الممتحنة: ١٠] حَتَّى بَلَغَ: {وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ} [الممتحنة: ١٠]، فَطَلَّقَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ فِي الشِّرْكِ، فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَالْأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما دونوں نے حدیبیہ کا طویل قصہ ذکر کیا، پھر وہ دونوں فرماتے ہیں کہ جب مومنہ عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ... وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ”اے لوگو! جو ایمان لائے، پھر جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں... اور کافرہ عورتوں سے نکاح (برقرار) مت رکھو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس دن اپنی دو بیویوں کو طلاق دے دی، جو دورِ جاہلیت کی تھیں، ان میں سے ایک سے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے اور دوسری سے سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے شادی کر لی۔
حدیث نمبر: 13972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، " كَانَتْ قُرَيْبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ أُمُّ الْحَكَمِ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْفِهْرِيِّ، فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ الثَّقَفِيُّ "، أَخْرَجَهُ هَكَذَا فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ قریبہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے انہیں طلاق دے دی تو پھر ان سے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے شادی کر لی، اور سیدہ ام الحکم بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا یہ سیدنا عباس بن غنم فہری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے انہیں طلاق دی تو سیدنا عبداللہ بن عثمان ثقفی رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کر لی۔
حدیث نمبر: 13973
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ} [الممتحنة: ١٠] قَالَ: " أَمَرَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَلَاقِ نِسَاءٍ كُنَّ كَوَافِرَ بِمَكَّةَ قَعَدْنَ مَعَ الْكُفَّارِ بِمَكَّةَ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ} [البقرة: ٢٢١]، قِيلَ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّهَا نَزَلَتْ فِي جَمَاعَةِ مُشْرِكِي الْعَرَبِ، الَّذِينَ هُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ يَحْرُمُ نِكَاحُ نِسَائِهِمْ، كَمَا يَحْرُمُ أَنْ يَنْكِحَ رِجَالُهُمُ الْمُؤْمِنَاتِ، فَإِنْ كَانَ هَذَا هَكَذَا فَهَذِهِ الْآيَةُ ثَابِتَةٌ لَيْسَ فِيهَا مَنْسُوخٌ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ”اور کافرہ عورتوں سے نکاح مت کرو“ کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا گیا کہ وہ کافرہ عورتوں کو جو مکہ میں رہ گئی ہیں، انہیں طلاق دے دیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ﴾ [سورة البقرة: 221] ”اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو، یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور مومنہ لونڈی آزاد مشرکہ عورت سے بہتر ہے“ کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ آیت مکہ کے مشرکین جو بتوں کے پجاری تھے، ان کے بارے میں نازل ہوئی، ان کی عورتوں سے نکاح حرام ہے جیسے ان کے مرد مومنہ عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے، اگر یہ اسی طرح ہے تو پھر یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ﴾ [سورة البقرة: 221] ”اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو، یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور مومنہ لونڈی آزاد مشرکہ عورت سے بہتر ہے“ کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ آیت مکہ کے مشرکین جو بتوں کے پجاری تھے، ان کے بارے میں نازل ہوئی، ان کی عورتوں سے نکاح حرام ہے جیسے ان کے مرد مومنہ عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے، اگر یہ اسی طرح ہے تو پھر یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13974
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلَا تَنْكِحُوا ⦗٢٧٨⦘ الْمُشْرِكَاتِ، حَتَّى يُؤْمِنَّ} [البقرة: ٢٢١] " يَعْنِي نِسَاءَ أَهْلِ مَكَّةَ الْمُشْرِكَاتِ، ثُمَّ أَحَلَّ لَهُمْ نِسَاءَ أَهْلِ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ﴾ [سورة البقرة: 221] ”اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں۔“ یعنی اہل مکہ کی مشرکہ عورتوں سے، پھر اہل کتاب کی عورتیں حلال کر دی گئیں۔
حدیث نمبر: 13975
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَمَّادٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ} [البقرة: ٢٢١] قَالَ: " أَهْلُ الْأَوْثَانِ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ السُّدِّيُّ، وَمُقَاتِلُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُفَسِّرُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ وَقَدْ قِيلَ: هَذِهِ الْآيَةُ فِي جَمِيعِ الْمُشْرِكِينَ، ثُمَّ نَزَلَتِ الرُّخْصَةُ بَعْدَهَا فِي إِحْلَالِ نِكَاحِ الْحَرَائِرِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ خَاصَّةً، كَمَا جَاءَتْ فِي إِحْلَالِ ذَبَائِحِ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ، وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ، وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الذِّينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ، إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ} [المائدة: ٥].
حافظ ثناء اللہ
حماد کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اللہ کے اس قول ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ﴾ [سورة البقرة: 221] کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا: ”بتوں کے پجاری۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت تمام مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر اہل کتاب کی آزاد عورتوں کے بارے میں خاص اجازت دی گئی۔ جیسے اہل کتاب کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [سورة المائدة: 5] ”تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال قرار دیا گیا اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور پاک دامنہ مؤمنہ عورتیں ان لوگوں سے جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے جب تم ان کو ان کے حق مہر دے دو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت تمام مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر اہل کتاب کی آزاد عورتوں کے بارے میں خاص اجازت دی گئی۔ جیسے اہل کتاب کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [سورة المائدة: 5] ”تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال قرار دیا گیا اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور پاک دامنہ مؤمنہ عورتیں ان لوگوں سے جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے جب تم ان کو ان کے حق مہر دے دو۔“
حدیث نمبر: 13976
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ} [البقرة: ٢٢١] " ثُمَّ اسْتَثْنَى نِسَاءَ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الذِّينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ} [المائدة: ٥] حِلٌّ لَكُمْ {إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ} [المائدة: ٥]، يَعْنِي مُهُورَهُنَّ {مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ} [النساء: ٢٥]، يَقُولُ: عَفَائِفَ غَيْرَ زَوَانٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ﴾ [سورة البقرة: 221] ”اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک وہ ایمان لائیں۔“ کے متعلق روایت ہے کہ پھر اہل کتاب کی عورتوں کا استثناء کر دیا گیا۔ فرمایا: ﴿وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 5] ”اور تم سے پہلے اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں۔“ ﴿اِذَا اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ﴾ یعنی ان کے حق مہر دو: ﴿مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ﴾ ”پاک دامنہ ہوں زانی نہیں۔“
حدیث نمبر: 13977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، ثنا أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ} [البقرة: ٢٢١]، " نُسِخَتْ وَأُحِلَّ مِنَ الْمُشْرِكَاتِ نِسَاءُ أَهْلِ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ﴾ [سورة البقرة: 221] کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ منسوخ کی گئی اور اہل کتاب کی مشرک عورتیں جائز قرار دی گئیں۔
حدیث نمبر: 13978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: حَجَجْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ لِي: " يَا جُبَيْرُ هَلْ تَقْرَأُ الْمَائِدَةَ؟ " فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: " أَمَا إِنَّهَا " آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَلَالٍ، فَاسْتَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالزاہریہ، حضرت جبیر بن نفیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے جھگڑا کیا، پھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو فرمانے لگیں: اے جبیر! کیا سورہ مائدہ پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، فرماتی ہیں: یہ آخری سورہ ہے جو نازل ہوئی، جو اس میں حلال پاؤ اس کو حلال جانو اور جو اس میں حرام پاؤ اس کو حرام جانو۔
حدیث نمبر: 13979
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ ⦗٢٧٩⦘ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ حُيِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَعَافِرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو " أَنَّ آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ سُورَةُ الْمَائِدَةِ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فَأَيُّهُمَا كَانَ، فَقَدْ أُبِيحَ مِنْهُ نِكَاحُ حَرَائِرِ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ: وَأَحَبُّ إِلِيَّ لَوْ لَمْ يَنْكِحْهُنَّ مُسْلِمٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے آخری سورہ مائدہ نازل ہوئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی آزاد عورتوں سے نکاح جائز رکھا گیا ہے اور مجھے زیادہ محبوب ہے کہ مسلمان ان سے نکاح نہ کریں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی آزاد عورتوں سے نکاح جائز رکھا گیا ہے اور مجھے زیادہ محبوب ہے کہ مسلمان ان سے نکاح نہ کریں۔
حدیث نمبر: 13980
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُ عَنْ نِكَاحِ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيَّةَ وَالنَّصْرَانِيَّةَ، فَقَالَ: تَزَوَّجْنَاهُنَّ زَمَنَ الْفَتْحِ بِالْكُوفَةِ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَنَحْنُ لَا نَكَادُ نَجِدُ الْمُسْلِمَاتِ كَثِيرًا، فَلَمَّا رَجَعْنَا طَلَّقْنَاهُنَّ، وَقَالَ " لَا يَرِثْنَ مُسْلِمًا، وَلَا يَرِثُهُنَّ، وَنِسَاءُهُمْ لَنَا حِلٌّ، وَنِسَاءُنَا عَلَيْهِمْ حَرَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا جب سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ مسلمان کا نکاح یہودیہ یا عیسائی عورت سے کرنے کا کیا حکم ہے؟ (سائل نے کہا) کہ ہم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ فتح کے وقت کوفہ میں ان سے شادی کی اور ہم ان کے قریب نہ جاتے تھے، ہمیں مسلمان عورتیں زیادہ میسر نہ تھیں اور جب ہم واپس پلٹے تو ہم نے ان کو طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ عورتیں مسلمان کی وارث نہ ہوں گی اور نہ مسلمان ان کے وارث ہوں گے، اور ان کی عورتیں ہمارے لیے حلال ہیں جبکہ ہماری عورتیں ان کے لیے حرام ہیں۔“
حدیث نمبر: 13981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ بَكْرُ بْنُ سَهْلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْقُرَشِيُّ الدِّمْيَاطِيُّ بِدِمْيَاطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ السَّائِبِ، مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَكَحَ ابْنَةَ الْفُرَافِصَةِ الْكَلْبِيَّةَ وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ أَسْلَمَتْ عَلَى يَدَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سائب بنو المطلب کے بیٹوں سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرافصہ کلبیہ کی بیٹی سے شادی کی، یہ عیسائی تھیں، پھر وہ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئیں۔
حدیث نمبر: 13982
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " تَزَوَّجَ بِنْتَ الْفُرَافِصَةِ وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ مَلَكَ عُقْدَةَ نِكَاحِهَا، وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ حَتَّى حَنِفَتْ حِينَ قَدِمَتْ عَلَيْهِ "، قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي أَيْضًا أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ نَكَحَ امْرَأَةً مِنْ كَلْبٍ نَصْرَانِيَّةً حَتَّى حَنِفَتْ حِينَ قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ، قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ شَيْخٌ مِنْ بَنِي الْأَشْهَلِ، أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ نَكَحَ يَهُودِيَّةً.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرافصہ کی عیسائی بیٹی سے شادی کی، جب وہ ان کے پاس آئیں تو مسلمان ہو گئیں۔
(ب) عبداللہ بن عبدالرحمن بنو اشہل کے شیخ تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔
(ب) عبداللہ بن عبدالرحمن بنو اشہل کے شیخ تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔
حدیث نمبر: 13983
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدٌ السُّكَّرِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ ⦗٢٨٠⦘ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْغَلَابِيُّ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " تَزَوَّجَ طَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَهُودِيَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
ہبیرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔
حدیث نمبر: 13984
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " تَزَوَّجَ طَلْحَةُ يَهُودِيَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
ہبیرہ بن یریم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔
(ب) ابو وائل فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ سے نکاح کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا کہ اس کو جدا کر دے، فرمانے لگے: مجھے ڈر ہے کہ تم مسلمان عورتوں کو چھوڑ کر زانیہ عورتوں سے نکاح کرو۔ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے کراہت کی بنا پر تھا۔ ایک دوسری روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے لکھا: کیا یہ حرام ہے؟ فرمانے لگے کہ مجھے خوف ہے کہ تم زانیہ عورتوں سے نکاح کرو۔
(ب) ابو وائل فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ سے نکاح کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا کہ اس کو جدا کر دے، فرمانے لگے: مجھے ڈر ہے کہ تم مسلمان عورتوں کو چھوڑ کر زانیہ عورتوں سے نکاح کرو۔ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے کراہت کی بنا پر تھا۔ ایک دوسری روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے لکھا: کیا یہ حرام ہے؟ فرمانے لگے کہ مجھے خوف ہے کہ تم زانیہ عورتوں سے نکاح کرو۔
حدیث نمبر: 13985
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ يَنْكِحُ النَّصْرَانِيَّةَ، وَلَا يَنْكِحُ النَّصْرَانِيُّ الْمُسْلِمَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ مسلمان عیسائی عورت سے شادی کر سکتا ہے جبکہ عیسائی مرد مسلمان عورت سے شادی نہیں کر سکتا۔
حدیث نمبر: 13986
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، فَدِينُنَا خَيْرُ الْأَدْيَانِ، وَمِلَّتُنَا فَوْقَ الْمِلَلِ، وَرِجَالُنَا فَوْقَ نِسَائِهِمْ، وَلَا يَكُونُ رِجَالُهُمْ فَوْقَ نِسَائِنَا " قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا النُّعْمَانُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَهْلُ الْكِتَابِ الَّذِي يَحِلُّ نِكَاحُ حَرَائِرِهِمْ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ الْمَشْهُورَيْنِ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ: وَهُمُ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، دُونَ الْمَجُوسِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْأَثَرُ الْمَشْهُورُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَحَمَلَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مَعَ الِاسْتِدْلَالِ بِرِوَايَةٍ بِحَالَةٍ عَلَى الْجِزْيَةِ فَهُمْ مُلْحَقُونَ بِهِمْ فِي حَقْنِ الدَّمِ بِالْجِزْيَةِ دُونَ غَيْرِهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ نے رسول کریم ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، تاکہ وہ تمام ادیان پر غالب آئے۔ ہمارا دین تمام ادیان سے بہتر اور ہماری ملت تمام ملتوں سے افضل ہے اور ہمارے مرد ان کی عورتوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان کے مرد اس طرح نہیں ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل کتاب کی آزاد عورتیں حلال ہیں یعنی عیسائی اور یہودی، لیکن مجوس کی عورتیں جائز نہیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» ”ان (یعنی مجوس) کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ رکھو۔“ تو اہل علم نے بجالہ کی روایت سے اس کو جزیہ پر محمول کیا ہے، وہ ان کو خون بہا میں جزیہ کے ساتھ ملا دیتے ہیں، اس کے علاوہ میں نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل کتاب کی آزاد عورتیں حلال ہیں یعنی عیسائی اور یہودی، لیکن مجوس کی عورتیں جائز نہیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» ”ان (یعنی مجوس) کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ رکھو۔“ تو اہل علم نے بجالہ کی روایت سے اس کو جزیہ پر محمول کیا ہے، وہ ان کو خون بہا میں جزیہ کے ساتھ ملا دیتے ہیں، اس کے علاوہ میں نہیں۔
حدیث نمبر: 13987
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ ⦗٢٨١⦘ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: " لَيْسَ نَصَارَى الْعَرَبِ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، إِنَّمَا أَهْلُ الْكِتَابِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَالَّذِينَ جَاءَتْهُمُ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ، فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِيهِمْ مِنَ النَّاسِ فَلَيْسُوا مِنْهُمْ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي نَصَارَى الْعَرَبِ بِمَعْنَى هَذَا وَأَنَّهُ لَا تُؤْكَلُ ذَبَائِحُهُمْ وَذَلِكَ يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عرب کے نصاریٰ اہل کتاب نہیں ہیں، اہل کتاب تو بنو اسرائیل ہیں جن کے پاس تورات و انجیل آئی، لیکن جو لوگ ان میں شامل ہو گئے وہ ان میں سے نہیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما عرب کے نصاریٰ کو بھی اسی معنیٰ میں لیتے ہیں اور یہ کہ ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے گا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما عرب کے نصاریٰ کو بھی اسی معنیٰ میں لیتے ہیں اور یہ کہ ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13988
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَيْرُوزَ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: " رَأَيْتُ امْرَأَةَ حُذَيْفَةَ مَجُوسِيَّةً "، فَهَذَا غَيْرُ ثَابِتٍ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ نَكَحَ يَهُودِيَّةً، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
معبد جہنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی مجوسی دیکھی۔ یہ ثابت نہیں ہے، لیکن یہ درست ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ سے نکاح کیا تھا۔