کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بات پر دلالت کرنے والی روایات کا بیان کہ یہ آیت اپنے شانِ نزول تک محدود ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 13870
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الْعُقَيْلِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهَارُونُ بْنُ رِئَابٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ حَمَّادٌ: قَالَ أَحَدُهُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدِي بِنْتَ عَمٍّ لِي جَمِيلَةً، وَأَنَّهَا لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ قَالَ: " طَلِّقْهَا " قَالَ: لَا أَصْبِرُ عَنْهَا قَالَ: " فَأَمْسِكْهَا إِذًا "، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے نکاح میں میرے چچا کی خوبصورت بیٹی ہے، لیکن وہ کسی چھونے والے کے ہاتھ رد نہیں کرتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق دے دو۔“ اس نے کہا: میں اس کے بغیر صبر نہ کر سکوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”روکے رکھو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13870
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13871
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُّ الْوَزَّانُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ " قَالَ: " غَرِّبْهَا " قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي قَالَ: " فَاسْتَمْتِعْ بِهَا إِذًا "، لَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ " إِذًا ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے آ کر کہا: میری عورت چھونے والے کے ہاتھ کو رد نہیں کرتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جدا کر دو۔“ کہنے لگا: مجھے ڈر ہے کہ میرا دل اس کا پیچھا کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب فائدہ اٹھاؤ۔“ ابوداؤد کی روایت میں «إِذًا» کے لفظ نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13871
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»
حدیث نمبر: 13872
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي هَاشِمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ " قَالَ: " طَلِّقْهَا " قَالَ: إِنَّهَا تُعْجِبُنِي قَالَ: " تَمَتَّعْ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو زبیر بنو ہاشم کے غلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر کہا کہ میری عورت چھونے والے ہاتھ کو واپس نہیں کرتی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق دے دو۔“ کہنے لگا: مجھے اچھی لگتی ہے، فرمایا: ”اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13872
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13873
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ الصَّائِغُ، ثنا أَبُو شَيْخٍ الْحَرَّانِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَرْوَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِيَ امْرَأَةً وَهِيَ لَا تَدْفَعُ يَدَ لَامِسٍ " قَالَ: " طَلِّقْهَا " قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا وَهِيَ جَمِيلَةٌ قَالَ: " فَاسْتَمْتِعْ بِهَا "، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کے پاس آ کر کہا کہ میری عورت چھونے والے کے ہاتھ کو واپس نہیں کرتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق دے دو۔“ اس نے کہا: خوبصورت ہے، میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طاق دے دو۔“ اس نے کہا: خوبصورت ہے، میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر فائدہ اٹھاؤ۔“ اس طرح معقل بن عبیداللہ عن ابی الزبیر عن جابر بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13873
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»
حدیث نمبر: 13874
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى التَّوَّزِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: " إِنَّ لِي امْرَأَةً لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ " قَالَ: " فَارِقْهَا " قَالَ: إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنْهَا قَالَ: " فَاسْتَمْتِعْ بِهَا "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آ کر کہا کہ میری عورت چھونے والے کے ہاتھ کو نہیں روکتی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جدا کر دو۔“ کہنے لگا: اس کے بغیر صبر نہ کر سکوں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13874
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 13875
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَهَا ابْنَةٌ مِنْ غَيْرِهِ، وَلَهُ ابْنٌ مِنْ غَيْرِهَا، فَفَجَرَ الْغُلَامُ بِالْجَارِيَةِ فَظَهَرَ بِهَا حَبَلٌ، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَّةَ رُفِعَ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا، ⦗٢٥١⦘ فَجَلَدَهُمَا عُمَرُ الْحَدَّ، وَحَرَصَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَأَبَى الْغُلَامُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی یزید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی عورت سے شادی کی، اس کی بیٹی دوسرے خاوند سے تھی اور اس مرد کا بیٹا کسی دوسری بیوی سے تھا، بچے نے بچی سے زنا کر لیا تو حمل ظاہر ہو گیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مکہ آئے تو ان کے سامنے معاملہ پیش ہوا۔ جب ان دونوں سے پوچھا گیا تو دونوں نے اعتراف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں کو حد لگائی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تمنا تھی کہ دونوں کو جمع کر دیا جائے، لیکن بچے نے انکار کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13875
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13876
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ جَارِيَةً فَجَرَتْ فَأُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدُّ، ثُمَّ إِنَّهُمْ أَقْبَلُوا مُهَاجِرِينَ، فَتَابَتِ الْجَارِيَةُ، فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا وَحَالُهَا فَكَانَتْ، تُخْطَبُ إِلَى عَمِّهَا، فَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا حَتَّى يُخْبِرَ مَا كَانَ مِنْ أَمْرِهَا، وَجَعَلَ يَكْرَهُ أَنْ يُفْشِيَ عَلَيْهَا ذَلِكَ فَذَكَرَ أَمْرَهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: " زَوِّجْهَا كَمَا تُزَوِّجُوا صَالِحِي فَتَيَاتِكُمْ " وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ بِكْرٍ افْتَضَّ امْرَأَةً وَاعْتَرَفَا، فَجَلَدَهُمَا مِائَةً ثُمَّ زَوَّجَ أَحَدَهُمَا مِنَ الآخَرِ مَكَانَهُ وَنَفَاهُمَا سَنَةً.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک بچی کو لا کر حد قائم کی گئی، پھر انہوں نے مہاجرین کو پیش کر دی تو لونڈی نے توبہ کی، اس کی توبہ اچھی تھی اور اس کا حال بھی درست تھا۔ اس نے اپنے چچا کی طرف پیغامِ نکاح بھیجا، لیکن وہ اس کی شادی کرنا پسند نہ کرتا تھا جب تک وہ اپنے معاملے کی مکمل خبر نہ دے اور اس کے راز کو ظاہر کرنا بھی پسند نہ کرتا تھا۔ اس بچی کا معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے چچا سے کہا: ”آپ اس کی شادی کریں جیسے اپنی نیک بچیوں کی شادی کرتے ہیں۔“
(ب) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ایک کنوارے مرد کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ اس نے کسی عورت سے زنا کر لیا، انہوں نے اعتراف کر لیا تو دونوں کو سو سو کوڑے لگائے، پھر دونوں کی شادی اسی جگہ کر دی اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13876
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 866»
حدیث نمبر: 13877
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ فَجَرَ بِامْرَأَةٍ أَيَنْكِحُهَا؟ فَقَالَ: " نَعَمْ ذَلِكَ حِينَ أَصَابَ الْحَلَالَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی آدمی کے بارے میں پوچھا جو کسی عورت سے زنا کرتا ہے، کیا اس عورت سے اس کی شادی کر دی جائے؟ وہ فرمانے لگے: ہاں، اس وقت وہ جائز طریقے سے مجامعت کرے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13877
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن منصور 886»
حدیث نمبر: 13878
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا بَعْدُ قَالَ: " كَانَ أَوَّلَهُ سِفَاحٌ، وَآخِرَهُ نِكَاحٌ، وَأَوَّلَهُ حَرَامٌ، وَآخِرَهُ حَلَالٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا جو کسی عورت سے زنا کرتا ہے پھر اس سے شادی کر لیتا ہے، فرمانے لگے: پہلا زنا تھا اور دوسرا نکاح ہے اور پہلا حرام تھا اور دوسرا حلال ہے۔
(ب) قتادہ رحمہ اللہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ایسے آدمی کے بارے میں نقل کیا جو کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد شادی کر لیتا ہے، ان سب نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، جب وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں اور اپنی حالت کو ناپسند کریں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13878
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13879
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " فِيمَنْ فَجَرَ بِامْرَأَةٍ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا قَالَ: أَوَّلُهُ سِفَاحٌ، وَآخِرُهُ نِكَاحٌ لَا بَأْسَ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے کسی عورت سے نکاح کیا پھر اس سے شادی کرلی، فرماتے ہیں: ”پہلے زنا تھا پھر نکاح کرلیا، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13879
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 13880
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خَرَجَ عَلَيْهِمَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، وَقَدْ كَانَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ صَائِمٌ، فَقَالَ: " إِنَّهَا كَانَتْ حَسَنَةً هَمَمْتُ بِهَا، وَأَنَا قَاضِيهَا يَوْمًا آخَرَ، وَرَأَيْتُ جَارِيَةً لِي فَأَعْجَبَتْنِي فَغَشِيتُهَا أَمَا إِنِّي أَزِيدُكُمْ أَنَّهَا كَانَتْ بَغَتْ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَصِّنَهَا "، ⦗٢٥٢⦘ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " اعْلَمْ أَنَّ اللهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ مِنْهُمَا جَمِيعًا كَمَا يَقْبَلُ مِنْهُمَا وَهُمَا مُتَفَرِّقَانِ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " إِنْ لَمْ تَنْفَعْهُمَا تَوْبَتُهُمَا جَمِيعًا لَمْ تَنْفَعْهُمَا وَهُمَا مُتَفَرِّقَانِ قَالَ: وَقَرَأَ {إِنَّ اللهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ} ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور سر سے پانی کے قطرے بہہ رہے تھے، اس نے ان کو بیان کیا کہ وہ روزہ دار تھے، کہتے ہیں: ”میں نے ایک خوبصورت عورت کا قصد کیا اور میں دوسرے دن اس کا فیصلہ کرنے والا تھا۔ میں نے اپنی خوبصورت لونڈی دیکھی تو اس سے مجامعت کر لی۔“ کہتے ہیں: ”میں تمہیں مزید بیان کرنا چاہتا ہوں وہ زانیہ تھی، میں اس کو پاک دامن بنانا چاہتا تھا۔“
(ب) ابو مجلز رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کی توبہ قبول فرما لیں گے جیسے ان دونوں کی الگ الگ توبہ قبول فرماتے ہیں۔
(ج) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ان دونوں کو اکٹھے توبہ نفع نہ دے گی تو الگ الگ بھی نفع نہ دیتی اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ [سورة التوبة: 104] ”اللہ اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13880
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13881
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فَقَالَ: أَلَا تَعْجَبُ أَنَّ الْحَسَنَ يَقُولُ: " إِنَّ الزَّانِيَ الْمَجْلُودَ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مَجْلُودَةً مِثْلَهُ "، فَقَالَ عَمْرٌو: وَمَا يُعْجِبُكَ؟ حَدَّثَنَاهُ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُنَادِي بِهَا نِدَاءً، فَهَكَذَا رَوَاهُ عَمْرٌو وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ فِي سَبَبِ نُزُولِ الْآيَةِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْمَنْعَ وَقَعَ عَنْ نِكَاحِ تِلْكَ الْبَغَايَا، وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَمِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْمَنْعَ وَقَعَ عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِمَّا لِشِرْكِهِنَّ وَإِمَّا لِشَرْطِهِنَّ إِرْسَالَهُنَّ لِلزِّنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حبیب معلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ سے ایک شخص حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: حضرت حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس زانی کو حد لگائی گئی ہو وہ حد لگائی گئی زانیہ عورت سے ہی نکاح کرتا ہے، تو عمرو رحمہ اللہ کہنے لگے: آپ کو تعجب کس چیز کا ہے؟
(ب) اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اس طرح منادی کروایا کرتے تھے۔
(ج) حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس آیت کا سببِ نزول یہ ہے کہ زانیہ عورتوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا۔
(د) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے منقول ہے کہ نکاح کی ممانعت ان کے شرک یا زنا کی چھٹی دینے کی وجہ سے تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13881
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13882
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، أنبأ الْعَلَاءُ بْنُ بَدْرٍ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَأَصَابَ فَاحِشَةً وَضُرِبَ الْحَدَّ ثُمَّ جِيءَ بِهِ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَفَرَّقَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ: " لَا تَتَزَوَّجْ إِلَّا مَجْلُودَةً مِثْلَكَ " فَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَزَنَى أَحَدُهُمَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَحَنَشٌ غَيْرُ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرد نے عورت سے نکاح کیا، پھر مرد نے زنا کر لیا جس کی وجہ سے حد لگائی گئی۔ پھر اس کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے میاں بیوی کے درمیان تفریق ڈال دی۔ پھر مرد سے کہا: تو شادی صرف حد لگائی گئی عورت سے کر سکتا ہے۔
(ب) حنش بن معتمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قوم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ لے کر آئی کہ شادی کے بعد میاں بیوی میں سے کسی نے دخول سے قبل زنا کر لیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان تفریق ڈال دی گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13882
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ جامع التحصيل 599»
حدیث نمبر: 13883
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " هُمَا زَانِيَانِ مَا اجْتَمَعَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جتنی دیر وہ اکٹھے رہیں گے وہ زانی ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13883
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13884
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ يَحْيَى الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: " هُمَا زَانِيَانِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا "، ⦗٢٥٣⦘ فَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَا دَلَّ عَلَى الرُّخْصَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جدا ہونے تک وہ دونوں زانی ہیں۔
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسی روایت بھی منقول ہے جو رخصت پر دلالت کرتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13884
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13885
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " رَجُلٌ زَنَى بِامْرَأَةٍ ثُمَّ تَابَا، وَأَصْلَحَا أَلَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا؟ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ، ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ} [النحل: ١١٩] قَالَ: " فَرَدَّدَهَا عَلَيْهِ مِرَارًا حَتَّى ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک مرد نے عورت سے زنا کر لیا، پھر دونوں نے توبہ کر کے اپنی حالت سنوار لی، کیا ان دونوں کی شادی ہو سکتی ہے؟ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة النحل: 119] ”پھر تیرا رب ان لوگوں کے لیے جو جہالت کی بنا پر برے عمل کرتے ہیں، پھر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کریں تو تیرا رب اس کے بعد بخشنے والا ہے“، انہوں نے بار بار یہ آیت پڑھی یہاں تک کہ اس نے گمان کر لیا کہ اس میں رخصت دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13885
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13886
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَرَأْتُ مِنَ اللَّيْلِ {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} [الشورى: ٢٥]، فَشَكَكْتُ فَلَمْ أَدْرِ كَيْفَ أَقْرَؤُهَا تَفْعَلُونَ أَوْ يَفْعَلُونَ، فَغَدَوْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَيْفَ أَقْرَؤُهَا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَسَأَلَهُ عَنِ الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، فَقَرَأَ عَلَيْهِ: " {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} [الشورى: ٢٥] ".
حافظ ثناء اللہ
بکیر بن اخنس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رات کے وقت یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ [سورة الشورى: 25] ”اللہ وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، اور غلطیاں معاف کرتا ہے، اور وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔“
کہتے ہیں کہ میں شک میں تھا، مجھے معلوم نہ تھا کہ «يَفْعَلُونَ» ہے یا «تَفْعَلُونَ»، میں صبح کے وقت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، سوال کا ارادہ بھی تھا لیکن میرے بیٹھے ہوئے ایک شخص نے سوال کر دیا کہ ایک شخص پہلے عورت سے زنا کرتا ہے پھر شادی کر لیتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ [سورة الشورى: 25] ”اللہ وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، اور غلطیاں معاف کرتا ہے، اور وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13886
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13887
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ الْكَلْبِيُّ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَقَالَ: أَيَتَزَوَّجُهَا؟ فَتَلَا عَبْدُ اللهِ الْآيَةَ وَقَالَ لِيَتَزَوَّجْهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو جناب یحییٰ بن ابی حیہ کلبی اس قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کیا وہ اس سے شادی کرے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا: وہ اس سے شادی کر لے۔
(ب) ہمام بن حارث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی عورت سے زنا کرتا ہے، بعد میں اس سے شادی کر لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13887
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13888
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي رَجُلٍ يَفْجُرُ بِامْرَأَةٍ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا لَا يَزَالِانِ زَانِيَيْنِ قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: هَذَا سِفَاحٌ، وَهَذَا نِكَاحٌ "، وَيُذْكَرُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ نَحْوُ قَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَدْ عُورِضَ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَمَا عُورِضَ بِقَوْلِهِ قَوْلُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَمَعَ مَنْ رَخَّصَ فِيهِ دَلَائِلُ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عامر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ مرد عورت سے زنا کرنے کے بعد شادی کرے تو وہ فرماتی تھیں: ”وہ دونوں زانی ہیں۔“
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ فرمانے لگے: ”وہ زنا اور یہ نکاح ہے۔“ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کی مانند ذکر کیا ہے۔ دونوں کے دلائل پیش کیے گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13888
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»