کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو اپنی چار بیویوں کو طلاقِ بائن دے دے تو اس کے لیے حلال ہے کہ ان کی جگہ مزید چار عورتوں سے نکاح کر لے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهُ لَا زَوْجَ لَهُ وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهِ وَاحْتَجَّ عَلَى انْقِطَاعِ الزَّوْجِيَّةِ بِانْقِطَاعِ أَحْكَامِهَا مِنَ الْإِيلَاءِ وَالظِّهَارِ وَاللِّعَانِ وَالْمِيرَاثِ وَغَيْرِ ذَلِكَ قَالَ: وَهُوَ قَوْلُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعُرْوَةَ وَأَكْثَرِ أَهْلِ دَارِ السُّنَّةِ وَحَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ اب اس کی کوئی بیوی نہیں اور نہ اس پر کوئی عدت ہے۔“
اور انہوں نے زوجیت کے ختم ہو جانے پر اس بات سے استدلال کیا کہ اس کے احکام، یعنی ایلاء، ظہار، لعان اور میراث وغیرہ، ختم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے فرمایا: ”اور یہی قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ، عروہ (رحمہم اللہ) اور دار السنہ (مدینہ منورہ) کے اکثر اہلِ علم کا قول ہے، اور اللہ عزوجل نے حرام فرمایا...“
اور انہوں نے زوجیت کے ختم ہو جانے پر اس بات سے استدلال کیا کہ اس کے احکام، یعنی ایلاء، ظہار، لعان اور میراث وغیرہ، ختم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے فرمایا: ”اور یہی قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ، عروہ (رحمہم اللہ) اور دار السنہ (مدینہ منورہ) کے اکثر اہلِ علم کا قول ہے، اور اللہ عزوجل نے حرام فرمایا...“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ كَانَا يَقُولَانِ " فِي الرَّجُلِ تَكُونُ عِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَيُطَلِّقُ إِحْدَاهُنَّ الْبَتَّةَ، أَنَّهُ يَتَزَوَّجُ إِذَا شَاءَ، وَلَا يَنْتَظِرُ حَتَّى تَمْضِيَ عِدَّتُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر اور قاسم بن محمد رحمہما اللہ دونوں اس شخص کے بارے میں بیان کرتے ہیں جس کے پاس چار بیویاں ہوں کہ اگر وہ ان میں سے ایک کو طلاقِ بائنہ دے دے، تو وہ جب چاہے شادی کر سکتا ہے اور وہ اس کی عدت گزرنے کا انتظار بھی نہ کرے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، " فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَطَلَّقَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ تَزَوَّجَ الْخَامِسَةَ فِي الْعِدَّةِ قَالَ: وَكَذَلِكَ قَالَ فِي الْأُخْتَيْنِ " وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، فِيمَنْ بُتَّ طَلَاقُهَا بِنَحْوِهِ، وَرُوِّينَاهُ عَنِ الْحَسَنِ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَبَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، وَخِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں روایت فرماتے ہیں جس کے نکاح میں چار بیویاں تھیں، اس نے ایک کو طلاق دے دی، فرماتے ہیں: ”اگر وہ چاہے تو اس کی عدت کے اندر پانچویں سے شادی کر لے۔“ اسی طرح وہ دو بہنوں کے متعلق بھی فرماتے ہیں۔
(ب) قتادہ رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کو طلاقِ بائنہ ہو چکی ہو۔
(ب) قتادہ رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کو طلاقِ بائنہ ہو چکی ہو۔