کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ولی کے لیے خطبہ دینے اور گفتگو کرنے کے ان طریقوں کا بیان جو مستحب ہیں۔
حدیث نمبر: 13832
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَحِقْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَخَطَبْتُ إِلَيْهِ ابْنَتَهُ، فَقَالَ لِي: " ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللهِ؟ إِنَّ ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللهِ لَأَهْلٌ أَنْ يَنْكِحَ نَحْمَدُ رَبَّنَا، وَنُصَلِّي عَلَى نَبِيِّنَا، وَقَدْ أَنْكَحْنَاكَ عَلَى مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے اپنی بیٹی کے نکاح کا پیغام دیا تو ابن ابی عبداللہ نے مجھے کہا: ابن ابی عبداللہ نکاح کے قابل ہے، ہم اپنے رب کی حمد کرتے ہیں اور اپنے نبی ﷺ پر درود پڑھتے ہیں اور ہم تیرا نکاح کر دیتے ہیں جو اللہ نے حکم فرمایا ہے: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] ”اچھائی سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13832
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13833
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا أَنْكَحَ قَالَ: " أُنْكِحُكَ عَلَى مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نکاح پڑھاتے تو فرماتے: میں تیرا نکاح ویسے کرتا ہوں جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] ”یا تو بھلائی سے چھوڑ دینا ہے یا اچھائی سے روکے رکھنا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13833
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»