حدیث نمبر: 13763
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا} [البقرة: 221]، وَقَالَ: {وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ} [البقرة: 221]، ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الذِّينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ} [المائدة: 5] دَلَّ بِذَلِكَ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْمُشْرِكَاتِ الْوَثَنِيَّاتُ وَالْمَجُوسِيَّاتُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا﴾ ”اور (اپنی عورتوں کا) نکاح مشرک مردوں سے نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔“ [سورة البقرة: 221]
اور فرمایا: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ﴾ ”اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔“ [سورة البقرة: 221]
پھر (اس حکم سے) استثنا کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ ”اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں (بھی حلال ہیں) جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی۔“ [سورة المائدة: 5]
اس سے اللہ تعالیٰ نے یہ رہنمائی فرمائی کہ مشرکات سے مراد بت پرست اور مجوسی عورتیں ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
اور فرمایا: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ﴾ ”اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔“ [سورة البقرة: 221]
پھر (اس حکم سے) استثنا کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ ”اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں (بھی حلال ہیں) جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی۔“ [سورة المائدة: 5]
اس سے اللہ تعالیٰ نے یہ رہنمائی فرمائی کہ مشرکات سے مراد بت پرست اور مجوسی عورتیں ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 13763
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ، إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْنَا لَهُ: " هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ؟، فَقَالَ: " لَا إِلَّا مَا فِي كِتَابِي وَإِذَا فِيهِ الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن عباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور اشتر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے کہا: ”اے علی! کیا آپ سے رسول اللہ ﷺ نے وعدہ لیا تھا جو لوگوں سے نہ لیا ہو؟“ فرمانے لگے: ”نہیں، لیکن جو میری اس کتاب میں ہے“ اور اس میں تھا کہ ”مسلمانوں کے خون آپس میں برابر ہیں اور اپنے غیر پر ایک ہاتھ کی مانند ہیں۔“