کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: نکاح میں کفاءت (برابری و ہمسری) کا اعتبار کرنے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ الْبُوَيْطِيِّ: أَصْلُ الْكَفَاءَةِ مُسْتَنْبَطٌ مِنْ حَدِيثِ بَرِيرَةَ كَانَ زَوْجُهَا غَيْرُ كُفُوٍ لَهَا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے بویطی کی روایت میں فرمایا: ”کفاءت (نکاح میں برابری) کی اصل سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے مستنبط ہے، ان کا شوہر ان کا کفو (ہم پلہ) نہیں تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں (نکاح باقی رکھنے یا ختم کرنے کا) اختیار دے دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13756
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَاتَبَتْ بَرِيرَةُ عَلَى نَفْسِهَا تِسْعَةَ أَوَاقٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ فَأَتَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا، فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ، فَكَلَّمَتْ فِي ذَلِكَ أَهْلَهَا، فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ لَهَا: مَا قَالَ أَهْلُهَا، فَقَالَتْ: لَاهَا اللهُ إِذًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَاعِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ قَامَ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ، يَقُولُونَ أَعْتِقْ يَا فُلَانُ الْوَلَاءُ لِي، كِتَابُ اللهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ، وَكُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ " قَالَتْ: وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا وَكَانَ عَبْدًا وَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا. قَالَ عُرْوَةُ: وَلَوْ كَانَ حُرًّا مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى مَا قَصَدْنَاهُ بِالدَّلَالَةِ، وَعَلَى ثُبُوتِ الْوَلَاءِ لِلْمُعْتِقِ، وَأَنْ لَا وَلَاءَ لِغَيْرِ الْمُعْتِقِ، وَمِنْ أَحْكَامِ الْوَلَاءِ ثُبُوتُ وِلَايَةِ النِّكَاحِ لِمَنْ لَهُ الْوَلَاءُ عِنْدَ عَدَمِ الْمُنَاسِبِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَفِي اعْتِبَارِ الْكَفَاءَةِ أَحَادِيثُ أُخَرُ لَا تَقُومُ بِأَكْثَرِهَا الْحُجَّةُ وَاللهُ أَعْلَمُ مِنْهَا، وَهُوَ أَمْثَلُهَا مَا.
حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت بریرہ نے اپنی آزادی کے لیے 9 اوقیوں پر مکاتبت کر لی کہ ایک سال میں ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، وہ اپنی مدد کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر وہ چاہیں تو میں ایک ہی مرتبہ قیمت ادا کر دوں گی اور ولاء میری ہوگی۔ حضرت بریرہ نے جا کر اپنے گھر والوں سے بات کی، انہوں نے انکار کر دیا، لیکن ولاء کی شرط پر آمادگی ظاہر کی۔ حضرت بریرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور وہاں رسول اللہ ﷺ بھی آگئے تو بریرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ بات آ کر کہہ دی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ولاء میری ہوگی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آپ خرید کر ولاء کی شرط رکھیں اور آزاد کر دیں، کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ کہتے ہیں: اے فلاں! آزاد کر اور ولاء میری ہوگی۔ اللہ کی کتاب زیادہ سچی ہے اور اللہ کی شرطیں زیادہ قابل اعتماد ہیں اور جو شرط کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے اگرچہ وہ سو شرطیں ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دیا۔ ان کا خاوند غلام تھا تو بریرہ نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا (یعنی اس سے آزاد ہو گئی) عروہ کہتے ہیں: اگر وہ آزاد ہوتا تو نبی ﷺ بریرہ کو اختیار نہ دیتے۔
(ب) اسحق بن ابراہیم کی روایت مسلم میں ہے۔ اس میں وہ دلالت موجود ہے جس کا ہم نے قصد کیا ہے اور ولاء صرف آزاد کرنے والے کے لیے ہے غیر کے لیے نہیں۔ ولاء کے احکام سے نکاح کی ولایت بھی ثابت ہوتی ہے جب کوئی مناسبت ولی موجود نہ ہو۔
کفو کے اعتبار کے لیے دوسری احادیث بھی موجود ہیں لیکن ان سے دلیل لینا درست نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13756
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2168»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، فَرَّقَهُمَا قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " يَا عَلِيُّ ثَلَاثَةٌ لَا تُؤَخِّرْهَا الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ، وَالْجِنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدَتْ كُفُؤًا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا: ۱۔ جب نماز کا وقت ہو جائے، ۲۔ جنازہ جب موجود ہو، ۳۔ بیوہ کا نکاح جب کفو موجود ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13757
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ⦗٢١٥⦘ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ، وَانْكِحُوا الْأَكْفَاءَ، وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے نطفوں (اولاد) کے لیے (اچھی عورتوں کا) انتخاب کرو، اور ہم پلہ (کفو) لوگوں سے نکاح کرو اور انہی کو (اپنی بیٹیاں) نکاح میں دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13758
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13759
وَأَمَّا حَدِيثُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنْكِحُوا النِّسَاءَ إِلَّا الْأَكْفَاءَ، وَلَا يُزَوِّجُهُنَّ إِلَّا الْأَوْلِيَاءُ، وَلَا مَهْرَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " فَهَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ الْبَلَدِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ الْحَسَنِ الرَّسْعَنِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، فَذَكَرَهُ قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللهُ: مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ أَحَادِيثُهُ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَدْ رَوَاهُ بَقِيَّةُ، عَنْ مُبَشِّرٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ، وَقِيلَ عَنْ بَقِيَّةَ مِثْلُ الْأَوَّلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کے نکاح صرف ہمسر سے کیے جائیں اور ان کے ولی ہی نکاح کریں اور حق مہر دس درہم سے کم نہ ہو۔“
یہ حدیث سخت ضعیف ہے۔ علی (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مبشر بن عبید متروک الحدیث ہے، اس کی احادیث کی متابعت نہیں کی جاتی۔ نیز اسے بقیہ نے مبشر سے، انہوں نے حجاج سے، انہوں نے ابو الزبیر سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے اور یہ ضعیف ہے، اس جیسی روایت سے دلیل قائم نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13760
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا مُبَشِّرٌ، وَأَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَتِهِ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُزَوِّجُ النِّسَاءَ إِلَّا الْأَوْلِيَاءُ، وَلَا يُزَوَّجُهُنَّ إِلَّا الْأَكْفَاءُ، وَلَا مَهْرَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ "، قَائِلُ قَوْلِهِ: وَأَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَتِهِ ابْنُ خُزَيْمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کے نکاح صرف ولی کریں اور ان کے نکاح کفو کی بنیاد پر کیے جائیں اور حق مہر دس درہم سے کم نہ ہو۔“
ابن خزیمہ نے راوی مبشر کے بارے میں کہا: ”میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13761
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا يَنْبَغِي لِذَوَاتِ الْأَحْسَابِ تَزَوُّجُهُنَّ إِلَّا مِنَ الْأَكْفَاءِ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ جَعَلَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ الْمَعْنَى فِي اشْتِرَاطِ الْوُلَاةِ فِي ⦗٢١٦⦘ النِّكَاحِ كَيْلَا تُضَيِّعَ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَقَالَ: " لَا مَعْنَى لَهُ أَوْلَى بِهِ مِنْ أَنْ لَا تَزَوَّجَ إِلَّا كُفُؤًا بَلْ لَا أَحْسَبُهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ جُعِلَ لَهُمْ أَمْرٌ مَعَ الْمَرْأَةِ فِي نَفْسِهَا إِلَّا لِئَلَّا تَنْكِحَ إِلَّا كُفُوًا "، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حسب و نسب والی عورتوں کے لیے مناسب نہیں کہ ان کی شادی کفو کے علاوہ کسی سے کی جائے۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح میں ولی کی شرط اسی لیے ہے کہ عورت بغیر کفو کے شادی نہ کرے۔ یہ سارا سلسلہ صرف اسی لیے ہے کہ وہ بغیر کفو کے شادی نہ کر سکے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13762
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»