کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے اور پھر اس سے نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 13738
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الطُّوسِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، سَأَلَ الشَّعْبِيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو إِنَّ مَنْ قَبْلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ يَقُولُونَ: إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ، وَاتَّبَعَهُ وَصَدَّقَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللهِ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ، فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا، ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ "، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ: خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَى الْمَدِينَةِ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ صَالِحٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”تین قسم کے بندے دگنا اجر دیے جاتے ہیں: ایک وہ آدمی جو اہل کتاب میں سے ہو، جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور جب اس نے نبی ﷺ کو پا لیا تو ان پر بھی ایمان لایا، ان کی اتباع کی اور ان کی تصدیق کی، اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے حق کو بھی ادا کرتا ہے اور اپنے مالک کے حق کو بھی ادا کرتا ہے، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔ اور ایک وہ آدمی جس کی لونڈی ہے، وہ اس کی پرورش کرتا ہے اور اچھی پرورش کرتا ہے، پھر اس کو ادب سکھاتا ہے اور اس کی تربیت اچھی کرتا ہے، پھر اس کو آزاد کرتا ہے اور اس سے شادی کرتا ہے، تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“
حدیث نمبر: 13739
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَأَدَّبَهَا وَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ مَمْلُوكٍ أَدَّى حَقَّ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحَقَّ مَوَالِيهِ فَلَهُ أَجْرَانِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا ثُمَّ أَصْدَقَهَا.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی بھی اپنی لونڈی کی تربیت کرتا ہے اور اچھی تربیت کرتا ہے، اس کو تعلیم دلاتا ہے اور اچھی تعلیم دلاتا ہے، پھر اس کو آزاد کرتا ہے اور اس سے شادی کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور جو غلام اپنے رب کا بھی حق ادا کرتا ہے اور اپنے مالک کا بھی حق ادا کرتا ہے، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“
حدیث نمبر: 13740
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْخَيَّاطُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗٢٠٨⦘ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا بِمَهْرٍ جَدِيدٍ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ "، لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: " إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ ثُمَّ أَمْهَرَهَا مَهْرًا جَدِيدًا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی لونڈی کو آزاد کرے پھر نئے حق مہر کے ساتھ اس سے شادی کرلے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“
حدیث نمبر: 13741
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا حق مہر بنایا۔
حدیث نمبر: 13742
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " سَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ فَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا " قَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، لِأَنَسٍ: مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ: أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ..
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ نبی ﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بنایا، پھر ان کو آزاد کیا اور ان سے شادی کی۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: حق مہر کیا تھا؟ فرمایا: حق مہر ان کا نفس (ذات) تھا، ان کو آزاد کیا، پھر شادی کر لی۔
حدیث نمبر: 13743
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاضِي أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيَّ يَقُولُ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ أَكْثَمَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَيُذْكَرُ هَذَا أَيْضًا عَنِ الْمُزَنِيِّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، فَحَمَلَهُ عَلَى التَّخْصِيصِ، وَمَوْضِعُ التَّخْصِيصِ أَنَّهُ أَعْتَقَهَا مُطْلَقًا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ، وَنِكَاحُ غَيْرِهِ لَا يَخْلُو مِنْ مَهْرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 13744
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ عِتْقَ الْمَرْأَةِ مَهْرَهَا حَتَّى يَفْرِضَ لَهَا صَدَاقًا "، قَالَ الشَّيْخُ: وَعَلَى مِثْلِ هَذَا يَدُلُّ حَدِيثُ أَبِي مُوسَى بِرِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، ⦗٢٠٩⦘ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثٍ ضَعِيفٍ أَنَّهُ أَمْهَرَهَا.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عورت کی آزادی کو اس کا حقِ مہر مقرر کر دینے کو ناپسند فرماتے تھے، یہاں تک کہ اس کا مہر مقرر کر دیا جائے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابو موسیٰ جو ابی بکر بن عیاش سے نقل فرماتے ہیں، وہ حدیث اسی پر دلالت کرتی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابو موسیٰ جو ابی بکر بن عیاش سے نقل فرماتے ہیں، وہ حدیث اسی پر دلالت کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 13745
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّكَّرِيُّ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَلِيلَةُ يَعْنِي بِنْتَ الْكُمَيْتِ الْعَتَكِيَّةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمَيْمَةَ، عَنْ أَمَةِ اللهِ بِنْتِ رَزِينَةَ، عَنْ أُمِّهَا رَزِينَةَ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرِ جَاءَ بِصَفِيَّةَ يَقُودُهَا سَبِيَّةً حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ وَذِرَاعُهَا فِي يَدِهِ، فَلَمَّا رَأَتِ السَّبْيَ قَالَتْ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، فَأَرْسَلَ ذِرَاعَهَا مِنْ يَدِهِ، فَأَعْتَقَهَا، فَخَطَبَهَا، فَتَزَوَّجَهَا وَأَمْهَرَهَا رَزِينَةَ " وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
امۃ اللہ بنت رزینہ اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ جب بنو قریظہ اور نضیر کا دن تھا، وہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بنا کر لائے، جب اللہ نے آپ ﷺ کو فتح عطا فرمائی تو اس وقت بھی وہ قیدی تھیں (لونڈی تھیں)۔ جب صفیہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے ان کو چھوڑ کر آزاد کر دیا اور شادی کا پیغام دے کر نکاح کر لیا اور ان کا حق مہر رزینہ رضی اللہ عنہا نے ادا کیا تھا۔