کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت کا ان بچوں کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنے کا بیان جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہیں ہوئے
حدیث نمبر: 13551
قَالَ اللهُ تَعَالَى وَهُوَ أَصْدَقُ الْقَائِلِينَ: {أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ} [النور: 31].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ نے، اور وہ سب کہنے والوں سے زیادہ سچا ہے، فرمایا: ﴿أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ﴾ ”یا ان بچوں کے سامنے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہیں ہوئے۔“ [سورة النور: 31]
حدیث نمبر: 13551
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " هُمُ الَّذِينَ لَا يَدْرُونَ مَا النِّسَاءُ مِنَ الصِّغَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس سے مراد وہ ہیں جو اپنی چھوٹی عمر کی وجہ سے یہ نہ جانتے ہوں کہ عورت کیا چیز ہے۔
حدیث نمبر: 13552
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ⦗١٥٦⦘ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، أنبأ اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَوْ كَانَ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ وَاللهُ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے سینگی لگانے کی اجازت طلب کی تو نبی ﷺ نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ ان کو سینگی لگائے۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے: ابو طیبہ یا تو آپ کے رضاعی بھائی تھے یا وہ بچے تھے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے۔