کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے نکاح کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13475
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ وَمَالٍ، إِلَّا أَنَّهَا لَا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُ بِهَا؟ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے ایک حسب و نسب اور مال والی عورت ملتی ہے لیکن وہ بچہ نہیں جنتی، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟“ آپ ﷺ نے اسے منع فرما دیا، پھر وہ دوسری مرتبہ آیا تو آپ ﷺ نے اسے پھر وہی جواب دیا، یعنی منع کیا۔ پھر وہ تیسری دفعہ آیا اور آپ ﷺ سے وہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایسی عورت سے شادی کرو جو بہت محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی ہو، میں تمہاری کثرت کی بنا پر امتوں پر فخر کروں گا۔“
حدیث نمبر: 13476
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي حَفْصُ ابْنُ أَخِي أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالْبَاءَةِ، وَيَنْهَانَا عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا، وَيَقُولُ: " تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمیں شادی کا حکم دیتے اور علیحدہ رہنے سے بہت زیادہ منع فرماتے اور ارشاد فرماتے: ”تم محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جنم دینے والی سے شادی کرو، میں تمہاری کثرت کی بنا پر انبیاء پر فخر کروں گا۔“
حدیث نمبر: 13477
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أِيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَهَا، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا، وَلَا مَالِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سی عورت بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ عورت جو خوش کر دے جب اس کی طرف دیکھا جائے اور اطاعت کرے جب اس کو حکم دیا جائے اور اپنے نفس اور مال میں اس کی مخالفت نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 13478
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُذَيْنَةَ الصَّدَفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ نِسَائِكُمُ الْوَدُودُ الْوَلُودُ الْمُوَاتِيَةُ الْمُوَاسِيَةُ، إِذَا اتَّقَيْنَ اللهَ، وَشَرُّ نِسَائِكُمُ الْمُتَبَرِّجَاتُ الْمُتَخَيِلَّاتُ وَهُنَّ الْمُنَافِقَاتُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْهُنَّ، إِلَّا مِثْلُ الْغُرَابِ الْأَعْصَمِ " ⦗١٣٢⦘ وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا إِلَى قَوْلِهِ: " إِذَا اتَّقَيْنَ اللهَ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری عورتوں میں سے بہترین محبت کرنے والیاں، بچے جننے والیاں، فرمان بردار اور غم خواری کرنے والیاں ہیں اور بدترین عورتیں وہ ہیں جو زینت کو ظاہر کرنے والیاں اور فخر کرنے والیاں ہیں اور وہ منافق عورتیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گی علاوہ سرخ چونچ اور پاؤں والے کوے کے۔“
حدیث نمبر: 13479
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ: " مَا اسْتَفَادَ عَبْدٌ بَعْدَ إِيمَانٍ بِاللهِ خَيْرًا مِنِ امْرَأَةٍ حَسَنَةِ الْخُلُقِ وَدُودٍ وَلُودٍ، وَمَا اسْتَفَادَ عَبْدٌ بَعْدَ كُفْرٍ بِاللهِ، فَاتِنَةً شَرًّا مِنِ امْرَأَةٍ حَدِيدَةِ اللِّسَانِ سَيِّئَةِ الْخُلُقِ، وَاللهِ إِنَّ مِنْهُنَّ غَنَمًا لَا يُحْذَى مِنْهُ، وَإِنَّ مِنْهُنَّ غِلَالًا يُفْتَدَى مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان کے بعد سب سے بہتر چیز اچھے اخلاق والی عورت ہے جو بچے جننے والی اور محبت کرنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کے بعد سب سے بری چیز شریر عورت ہے جو تیز زبان اور بدخلق ہو۔ اللہ کی قسم! بعض عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہیں جو کسی تکلیف کا باعث نہیں ہوتیں اور بعض عورتیں طوق ہوتی ہیں جن سے خلاصی ممکن نہیں۔
حدیث نمبر: 13480
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ أَبُو إِيَاسٍ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَانَ أَدْرَكَهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَاللهِ مَا أَفَادَ رَجُلٌ فَائِدَةً بَعْدَ الْإِسْلَامِ خَيْرًا مِنِ امْرَأَةٍ حَسْنَاءَ حَسَنَةِ الْخُلُقِ وَدُودٍ وَلُودٍ، وَاللهِ مَا أَفَادَ رَجُلٌ فَائِدَةً بَعْدَ الشِّرْكِ بِاللهِ شَرًّا مِنِ امْرَأَةٍ سَيِّئَةِ الْخُلُقِ حَدِيدَةِ اللِّسَانِ، وَاللهِ إِنَّ مِنْهُنَّ لَغُلَّامًا يُفْدَى عَنْهُ وَغَنَمًا مَا يُحْذَى مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اسلام قبول کرنے کے بعد آدمی کے لیے اچھے اخلاق والی، محبت کرنے والی اور بچے جننے والی عورت کے سوا کوئی چیز فائدہ مند نہیں۔ اللہ کی قسم! شرک کے بعد آدمی کے لیے بدمزاج، بدخلق اور بری زبان والی عورت سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں۔ اللہ کی قسم! بعض عورتیں گلے کا طوق ہیں جن سے خلاصی ممکن نہیں ہے اور ان میں سے بعض اطاعت گزار ہیں جن سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔