أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، نا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ الْهَجَرِيِّ، عَنْ مَحْدُوجٍ الذُّهْلِيِّ، عَنْ جَسْرَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَّهَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَقَالَ: " أَلَا لَا يَحِلُّ هَذَا الْمَسْجِدُ لِجُنُبٍ، وَلَا لِحَائِضٍ إِلَّا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلِيٍّ، وَفَاطِمَةَ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، أَلَا قَدْ بَيَّنْتُ لَكُمُ الْأَسْمَاءَ أَنْ لَا تَضِلُّوا ".
حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ باہر نکلے اور مسجد کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”خبردار! کسی ناپاک مرد یا حائضہ عورت کے لیے مسجد حلال نہیں ہے مگر رسول اللہ ﷺ، علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کے لیے۔ خبردار! میں نے ان کے نام واضح کر دیے ہیں تاکہ تم گمراہ نہ ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ، يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مَحْدُوجٌ الذُّهْلِيُّ عَنْ جَسْرَةَ قَالَهُ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ فِيهِ نَظَرٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ جَسْرَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: محدوج ذہلی، جسرہ سے (روایت کرتا ہے)، یہ ابن ابی غنیہ نے ابو الخطاب سے بیان کیا ہے، اس میں نظر (کلام) ہے۔
یہ روایت جسرہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں بھی ضعف ہے۔
یہ روایت جسرہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں بھی ضعف ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ التَّمَّارُ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَذْكُرُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ جَسْرَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّ مَسْجِدِي حَرَامٌ عَلَى كُلِّ حَائِضٍ مِنَ النِّسَاءِ، وَكُلِّ جُنُبٍ مِنَ الرِّجَالِ، إِلَّا عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ عَلِيٍّ، وَفَاطِمَةَ، وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ " رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! میری مسجد جنبی مرد کے لیے اور حائضہ عورت کے لیے حرام ہے، علاوہ محمد ﷺ کے اور آپ کے اہل بیت: علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ قَالَ: قَالَ الْبُخَارِيُّ فَذَكَرَ رِوَايَةَ مَحْدُوجٍ عَنْ جَسْرَةَ، ثُمَّ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ أَفْلَتَ عَنْ جَسْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَصِحُّ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ⦗١٠٥⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَا عَلِيُّ " لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرُكَ "، أَنْبَأَنِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، فَذَكَرَهُ وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَطِيَّةَ، وَعَطِيَّةُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! کسی جنبی کے لیے مسجد میرے اور تیرے علاوہ حلال نہیں ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے (اس مضمون کی جسرہ والی روایت کے بارے میں) کہا: یہ نبی ﷺ سے صحیح ثابت نہیں ہے۔
اس کی سند میں عطیہ، عطیہ بن سعد عوفی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے (اس مضمون کی جسرہ والی روایت کے بارے میں) کہا: یہ نبی ﷺ سے صحیح ثابت نہیں ہے۔
اس کی سند میں عطیہ، عطیہ بن سعد عوفی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔