حدیث نمبر: 13404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ فَاسْتَتْبَعَهُ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ، فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ، وَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ، فَسَاوَمُوهُ بِالْفَرَسِ، وَلَا يَشْعُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ ابْتَاعَهُ حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمُ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ عَلَى ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِي ابْتَاعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا زَادَهُ نَادَى الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ أَوْ لَأَبِيعَنَّهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ حَتَّى أَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ: " أَوَلَسْتُ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ؟ " فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا وَاللهِ مَا بِعْتُكَ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلَى قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ "، فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ، وَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ، فَمَنْ جَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقُولُ إِلَّا حَقًّا، حَتَّى جَاءَ خُزَيْمَةُ فَاسْتَمَعَ مَا يُرَاجِعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُرَاجِعُ الْأَعْرَابِيُّ وَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: " هَلُمَّ شُهَدَاءُ يَشْهَدُونَ أَنِّي بَايَعْتُكَ قَالَ خُزَيْمَةُ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ قَالَ: " بِمَا تَشْهَدُ؟ " قَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمارہ بن خزیمہ رحمہ اللہ اپنے چچا (جو کہ صحابی ہیں) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی دیہاتی سے گھوڑا خریدا اور اسے اپنے پیچھے آنے کو کہا تاکہ گھوڑے کی قیمت کا معاملہ حل ہو جائے، رسول اللہ ﷺ جلدی چلے اور اس نے سست روی کی تو لوگ دیہاتی کے پاس آ کر اس گھوڑے کی قیمت کا بھاؤ کرنے لگے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ اس گھوڑے کو خرید چکے ہیں، ان میں سے بعض نے گھوڑے کی قیمت اس قیمت سے زیادہ لگا دی جس میں رسول اللہ ﷺ نے اسے خریدا تھا۔ جب دیہاتی نے قیمت زیادہ دیکھی تو اس نے رسول اللہ ﷺ کو آواز دی: اگر آپ اس گھوڑے کو خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں وگرنہ میں اس کو ضرور بیچ دوں گا، آپ ﷺ آواز سن کر ٹھہر گئے اور جب دیہاتی آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اس سے کہا: ”کیا میں نے تجھ سے خرید نہیں لیا؟“ دیہاتی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ کو نہیں بیچا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں! میں تجھ سے خرید چکا ہوں۔“ لوگ آپ ﷺ اور دیہاتی کے گرد جمع ہو گئے۔ دیہاتی نے کہا: کوئی گواہ لاؤ جو گواہی دے کہ میں نے آپ کو بیچا ہے۔ بعض مسلمانوں نے دیہاتی سے کہا: تیرا ستیاناس ہو! رسول اللہ ﷺ صرف سچ بات کہہ رہے ہیں، یہاں تک کہ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بات اور دیہاتی کی بات سنی، دیہاتی کہہ رہا تھا: کوئی گواہ لاؤ جو گواہی دے کہ میں نے آپ ﷺ کو گھوڑا بیچا ہے۔ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے آپ ﷺ کو بیچا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”تو کس دلیل کی بنا پر گواہی دیتا ہے؟“ انہوں نے کہا: آپ ﷺ کے سچا ہونے کی تصدیق کی بنا پر، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے قائم مقام قرار دیا۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13404
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد 2228»