کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آپ ﷺ کے لیے مالِ فے کے بقیہ چار حصوں اور مالِ فے و مالِ غنیمت کے خمس (پانچویں حصے) کے پانچویں حصے کے مباح ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13369
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: أَرْسَلَ إِلِيَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَانِي، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَى رِمَالٍ، فَقَالَ: يَا مَالِكُ إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ عَلَيْنَا ⦗٩٤⦘ دَوَافٌّ مِنْ قَوْمِكَ، فَخُذْ هَذَا الْمَالَ، فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِذَلِكَ غَيْرِي؟ فَقَالَ: خُذْهَا عَنْكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ فَجَلَسْتُ، فَجَاءَ يَرْفَأُ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، وَسَعْدٍ؟ قَالَ: قُلْ لَهُمْ فَلْيَدْخُلُوا، فَدَخَلُوا، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ قَالَ: قُلْ لَهُمَا فَلْيَدْخُلَا، فَدَخَلَا وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ، فَلَمَّا جَلَسُوا، قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَارْحَمْهُمَا قَالَ: أَنْشُدُكُمَا اللهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ هَلْ عَلِمْتُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّا لَا نُوَرَّثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ "؟ يَعْنِي، فَقَالَا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ لِلْآخَرِينَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: نَعَمْ قَالَ: وَقَالَ: إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ، مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، " فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً يُنْفِقُ مِنْهَا عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عِدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ هِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً " أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
مالک بن اوس سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری طرف ایک آدمی بھیجا، میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ ایک ڈھیر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: ”اے مالک! تیری قوم کے لوگ میرے پاس دوڑتے ہوئے آئے ہیں، آپ یہ مال لے جائیے اور ان میں تقسیم کر دیں“، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے علاوہ کسی دوسرے کو امیر بنا دیں، انہوں نے کہا: ”اے شخص! تو لے لے“، میں بیٹھ گیا تو ان کا غلام یرفاء آیا اور کہا: عبدالرحمن، طلحہ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم آئے ہیں، کیا انہیں اجازت ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان سے کہو کہ اندر آ جائیں“، وہ اندر آئے۔ پھر یرفاء آیا اور کہا: حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما بھی ہیں، کیا انہیں بھی اجازت ہے؟ کہا: ”انہیں کہو، اندر آ جائیں“، وہ دونوں اندر آئے اور ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے متعلق بات کر رہا تھا، جب وہ بیٹھ گئے تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! ان کے درمیان فیصلہ کیجیے اور ان پر ترس کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، جس کے حکم کے ساتھ آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» ”ہم جو صدقہ چھوڑ جائیں اس کا وارث نہیں بناتے“، تو انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر دوسرے لوگوں سے پوچھا، انہوں نے بھی ہاں میں جواب دیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بنو نضیر کے اموال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیے ان میں مسلمانوں نے گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائیں اور وہ حصہ خالص رسول اللہ ﷺ کے لیے تھا جسے آپ اپنے اہل و عیال پر ایک سال کے خرچ کے طور پر خرچ کرتے تھے اور جو اس سے باقی بچ جاتا اسے گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ پر لگا دیتے جو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری تھی، پھر وہ حصہ نبی ﷺ کے لیے خاص تھا۔
حدیث نمبر: 13370
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كَانَ فِيمَا احْتَجَّ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ قَالَ: " كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ صَفَايَا بَنُو النَّضِيرِ وَخَيْبَرُ وَفَدَكُ، فَأَمَّا بَنُو النَّضِيرِ، فَكَانَتْ حُبُسًا لِنَوَائِبِهِ، وَأَمَّا فَدَكُ، فَكَانَتْ حُبُسًا لِابْنِ السَّبِيلِ وَأَمَّا خَيْبَرُ، فَجَزَّأَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ جُزْئَيْنِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَجُزْءًا لِنَفَقَةِ أَهْلِهِ فَمَا فَضَلَ عَنْ نَفَقَةِ أَهْلِهِ جَعَلَهُ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا الْخُمُسُ، فَالْآيَةُ نَاطِقَةٌ بِهِ مَعَ مَا رَوَيْنَا فِي كِتَابِ قَسْمِ الْفَيْءِ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب فیصلہ کیا تو فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تین قسم کے اموال تھے: بنو نضیر، خیبر اور فدک کا مال؛ بنو نضیر والا مال آفات میں استعمال کے لیے، فدک کا مال مسافروں کے لیے اور خیبر والے مال کے تین حصے کیے، دو حصے مسلمانوں کے لیے، تیسرا حصہ اپنے اہل و عیال کے خرچ کے لیے، اگر ان کی ضرورت سے زائد ہوتا تو اسے مسلمان فقراء میں تقسیم کر دیتے۔