کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آپ ﷺ کے لیے صفی (مالِ غنیمت میں سے چنے ہوئے خاص حصے) کے مباح ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13368
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قُرَّةُ قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الشِّخِّيرِ قَالَ: كُنَّا بِالْمِرْبَدِ، فَجَاءَ رَجُلٌ أَشْعَثُ الرَّأْسِ بِيَدِهِ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَحْمَرَ، فَقُلْنَا: كَأَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ قَالَ: أَجَلْ قُلْنَا: نَاوِلْنَا هَذِهِ الْقِطْعَةَ الْأَدِيمَ، فَنَاوَلَنَاهَا فَقَرَأْنَا مَا فِيهَا، فَإِذَا فِيهَا " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى بَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ، إِنَّكُمْ إِنْ شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَأَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَأَدَّيْتُمُ الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَهْمَ الصَّفِيِّ أَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَرَسُولِهِ "، قُلْنَا: مَنْ كَتَبَ هَذَا لَكَ؟ قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم مربد نامی جگہ پر تھے کہ ایک آدمی آیا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کے ہاتھ میں سرخ چمڑے کا ٹکڑا تھا، ہم نے اس سے کہا کہ لگتا ہے تو دیہات سے آیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں! ہم نے اس سے کہا کہ یہ چمڑے کا ٹکڑا ہمیں دو تو اس نے ہمیں دے دیا۔ ہم نے اس میں جو کچھ تھا وہ پڑھا، اس میں یہ لکھا تھا: ”یہ محمد ﷺ کی طرف سے ہے بنی زہیر بن اقیش کی طرف، اگر تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرتے رہو اور زکات ادا کرتے رہو اور مالِ غنیمت میں خمس دیتے رہو اور نبی ﷺ کا اور وہ حصہ جو حاکم کے لیے خاص ہے دیتے رہو تو تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے امن میں ہو۔“ ہم نے اس آدمی سے پوچھا کہ یہ کس نے لکھا ہے؟ تو اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے۔