کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کو اپنے اس فرمان کے ذریعے جس چیز سے منع فرمایا: ”اور احسان کر کے زیادہ طلب نہ کریں“
حدیث نمبر: 13333
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ زَكَرِيَّا: أَرَاهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ، فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللهِ} [الروم: ٣٩] قَالَ: هُوَ الرِّبَا الْحَلَالُ أَنْ يُهْدَى يُرِيدُ أَكْثَرَ مِنْهُ فَلَا أَجْرَ فِيهِ وَلَا وِزْرَ، وَنُهِيَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً {وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ} [المدثر: ٦].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ﴾ [سورة الروم: 39]، فرمایا کہ یہ سودِ حلال ہے کہ وہ اس نیت سے ہدیہ دے کہ اس کو زیادہ دیا جائے۔ اس میں کوئی اجر نہیں اور نہ کوئی بوجھ ہے اور اس سے نبی ﷺ نے خاص طور پر منع کیا اور یہ آیت پڑھی: ﴿وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ﴾ [سورة المدثر: 6] ”اور تو احسان نہ کر کہ زیادہ لے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں ﴿وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ﴾ [سورة المدثر: 6] ”تو کسی آدمی کو (مال) نہ دے تاکہ وہ تجھ کو زیادہ دے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں ﴿وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ﴾ [سورة المدثر: 6] ”تو کسی آدمی کو (مال) نہ دے تاکہ وہ تجھ کو زیادہ دے۔“