کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خلیفہ اور بڑے صوبے کا گورنر جو براہ راست صدقہ وصول کرنے کے نگران نہیں ہوتے ان کا صدقہ وصول کرنے والوں کے حصے میں کوئی حق نہیں ہے
حدیث نمبر: 13164
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَبَنًا، فَأَعْجَبَهُ فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ، مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ، فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ، فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا، فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي هَذَا، فَأَدْخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُصْبُعَهُ فِي فِيهِ وَاسْتَقَاءَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا تو اس (دودھ) نے انہیں حیرت میں ڈال دیا۔ انہوں نے دودھ پلانے والے سے پوچھا: تجھے یہ دودھ کہاں سے ملا؟ اس نے بتایا کہ وہ پانی کے گھاٹ پر گیا، اس نے اس گھاٹ کا نام بتایا تو وہاں صدقے کی بکریاں تھیں، جنہیں وہ پانی پلا رہے تھے، انہوں نے میرے لیے ان کا دودھ دوہا تو میں نے اس برتن میں ڈال لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلی داخل کر کے قے کر دی۔
حدیث نمبر: 13165
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، نا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ، حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، قَدِمَ بِصَدَقَاتٍ سَعَى عَلَيْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ الْحَرَّةَ خَرَجَ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَرَّبَ إِلَيْهِ تَمْرًا وَلَبَنًا وَزُبْدًا، فَأَكَلُوا وَأَبَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَأْكُلَ، فَقَالَ ابْنُ أَبِي رَبِيعَةَ: وَاللهِ أَصْلَحَكَ اللهُ إِنَّا نَشْرَبُ أَلْبَانَهَا وَنُصِيبُ مِنْهَا، فَقَالَ: " يَا ابْنَ أَبِي رَبِيعَةَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكَ إِنَّكَ وَاللهِ تَتْبَعُ أَذْنَابَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد صدقات کا مال لے کر چلے جن پر وہ عامل تھے۔ جب حرہ نامی جگہ پہنچے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی وہاں تھے، انہوں (میرے والد) نے کھجور، دودھ اور مکھن ان کے قریب کیا، دوسروں نے کھایا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے انکار کیا۔ ابن ابی ربیعہ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، ہم ان کا دودھ پیتے ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اے ابن ابی ربیعہ! میں تمہاری طرح نہیں ہوں، اللہ کی قسم! آپ تو ان کی دموں کے پیچھے چلتے ہو۔“ (یعنی ان کی دیکھ بھال کرتے ہو)۔