أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لِيَكْتُبِ الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ: إِنْ حَدَثَ بِي حَدَثُ مَوْتِي قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي هَذِهِ " وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يُغَيِّرُ الرَّجُلُ مَا شَاءَ مِنَ الْوَصِيَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ آدمی کو اپنی وصیت میں یوں لکھنا چاہیے: اگر میری اس وصیت کو بدلنے سے پہلے مجھے موت کا حادثہ پیش آ جائے۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے، آپ نے کہا: آدمی جب چاہے وصیت بدل سکتا ہے۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے، آپ نے کہا: آدمی جب چاہے وصیت بدل سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ فَإِنَّهُ يُغَيِّرُ وَصِيَّتَهُ وَمَا شَاءَ "، فَقِيلَ لَهُ: الْعَتَاقَةُ؟ قَالَ: " الْعَتَاقَةُ وَغَيْرُ الْعَتَاقَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آدمی وصیت کرے تو وہ جب چاہے اپنی وصیت بدل سکتا ہے، حسن رحمہ اللہ سے کہا گیا: آزاد کردہ غلام کے بارے میں؟ حسن رحمہ اللہ نے کہا: غلام ہو یا کوئی بھی چیز۔