السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الرجوع في الوصية وتغييرها باب: وصیت سے رجوع کرنے اور اسے تبدیل کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 12654
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لِيَكْتُبِ الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ: إِنْ حَدَثَ بِي حَدَثُ مَوْتِي قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي هَذِهِ " وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يُغَيِّرُ الرَّجُلُ مَا شَاءَ مِنَ الْوَصِيَّةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ آدمی کو اپنی وصیت میں لکھنا چاہیے کہ اگر کوئی واقعہ میری موت سے پہلے ہوا تو میں اپنی وصیت کو بدل سکتا ہوں۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے، آپ نے کہا: آدمی جب چاہے وصیت بدل سکتا ہے۔