السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: لا يرث ولد الزنا من الزاني، ولا يرثه الزاني باب: زنا کی اولاد زانی کا وارث نہیں ہوتی اور نہ زانی اس کا وارث ہوتا ہے
حدیث نمبر: 12505
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادُوا: ذَلِكَ فِيمَا اسْتُلْحِقَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، فَمَا اقْتُسِمَ مِنْ مَالٍ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فَقَدْ مَضَى.حافظ ثناء اللہ
محمد بن راشد کی سند میں زیادتی ہے اور یہ شروعِ اسلام میں نسب ملایا جاتا تھا، اسلام سے پہلے مال تقسیم کیا جاتا ہے پس وہ گزر چکا۔