کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جب قریب والی دادی ماں کی طرف سے ہو تو صرف اسے وارث بنانا، اور اگر قریب والی باپ کی طرف سے ہو تو ان کے درمیان حصہ شریک کرنا، اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے مذہب میں یہی صحیح ہے
حدیث نمبر: 12363
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ مِنْ كِتَابِهِ، أنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " إِذَا اجْتَمَعَتْ جَدَّتَانِ فَبَيْنَهُمَا السُّدُسُ، وَإِذَا كَانَتِ الَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ أَقْرَبَ مِنَ الْأُخْرَى فَالسُّدُسُ لَهَا، وَإِذَا كَانَتِ الَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأَبِ أَقْرَبَ فَهُوَ بَيْنَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب دو جدہ جمع ہوں تو ان میں سدس ہوگا، جب ماں کی طرف سے قریبی ہو دوسری سے تو سدس قریبی کے لیے ہوگا اور جب باپ کی طرف سے قریبی ہو تو سدس دونوں میں ہوگا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12363
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12364
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: فَإِنَّا قَدْ سَمِعْنَا أَنَّهَا " إِنْ كَانَتِ الَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ هِيَ أَقْعَدَهُمَا كَانَ لَهَا السُّدُسُ دُونَ الَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأَبِ، وَإِنْ كَانَتَا مِنَ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، أَوْ كَانَتِ الَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأَبِ هِيَ أَقْعَدَهُمَا، فَإِنَّ السُّدُسَ يُقْسَمُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ہم نے سنا، اگر وہ ماں کی طرف سے ہو تو وہ دونوں میں سے زیادہ حق دار ہے اور اس کے لیے سدس ہے، اس کے علاوہ جو باپ کی طرف سے ہے اور اگر وہ دونوں فوت شدہ سے ایک ہی درجے میں ہوں یا باپ والی زیادہ قریبی ہو تو سدس دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12364
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12365
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا كَانَتِ الْجَدَّةُ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ أَقْعَدَ مِنَ الْجَدَّةِ مِنْ قِبَلِ الْأَبِ فَهِيَ أَحَقُّ بِالسُّدُسِ، وَإِذَا كَانَتِ الْجَدَّةُ مِنْ قِبَلِ الْأَبِ أَقْعَدَ أُشْرِكَتْ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَدَّةِ الْأُمِّ " قِيلَ: وَكَيْفَ صَارَتِ الْجَدَّةُ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ؟ قَالَ: " لِأَنَّ الْجَدَّاتِ إِنَّمَا أُطْعِمْنَ السُّدُسَ مِنْ قِبَلِ سُدُسِ الْأُمِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: جب جدہ ماں کی جانب سے قریبی ہو تو وہ باپ والی سے زیادہ حق دار ہے اور «السُّدُسُ» ”چھٹے حصے“ کی حق دار بھی وہی ہے اور جب جدہ باپ کی طرف سے قریبی ہو تو میں دونوں کو شریک کروں گا، کہا گیا کہ ماں والی جدہ کیسے اس مقام پر پہنچ گئی؟ آپ نے کہا: اس لیے کہ جدات کا حصہ «السُّدُسُ» ہے، ماں والے «السُّدُسُ» کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12365
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12366
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: " إِذَا كَانَتِ الْجَدَّةُ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ أَقْعَدَ مِنَ الْجَدَّةِ مِنْ قِبَلِ الْأَبِ كَانَ لَهَا السُّدُسُ، وَإِذَا كَانَتِ الْجَدَّةُ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ هِيَ أَقْعَدَ مِنَ الْجَدَّةِ مِنَ الْأَبِ جُعِلَ السُّدُسُ بَيْنَهُمَا " قَالَ: وَأنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا ⦗٣٩٠⦘ وَكِيعٌ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید رحمہ اللہ نے کہا: جب ماں کی جانب سے جدہ قریبی ہو باپ کی جانب والی سے تو وہ سدس کی زیادہ حق رکھتی ہے اور جب باپ والی جدہ ماں والی سے قریبی ہو تو دونوں سدس میں شریک ہوں گی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12366
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12367
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " إِذَا كَانَتِ الْجَدَّةُ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ أَقْعَدَ فَهِيَ أَحَقُّ بِالسُّدُسِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ماں کی طرف سے جدہ قریبی ہو تو وہی سدس کا حق رکھتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12367
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»