أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْأَبِ مِنِ ابْنِهِ أَوِ ابْنَتِهِ إِذَا تُوُفِّيَ أَنَّهُ إِنْ تَرَكَ الْمُتَوَفَّى وَلَدًا ذَكَرًا أَوْ وَلَدَ ابْنٍ ذَكَرًا، فَإِنَّهُ يُفْرَضُ لِلْأَبِ السُّدُسُ، وَإِنْ لَمْ يَتْرُكِ الْمُتَوَفَّى وَلَدًا ذَكَرًا وَلَا وَلَدَ ابْنٍ ذَكَرًا، فَإِنَّ الْأَبَ يُخَلَّفُ وَيُبْدَأُ بِمَنْ شَرَكَهُ مِنْ أَهْلِ الْفَرَائِضِ فَيُعْطَوْنَ فَرَائِضَهُمْ، فَإِنْ فَضَلَ مِنَ الْمَالِ السُّدُسُ فَأَكْثَرُ مِنْهُ كَانَ لِلْأَبِ، وَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ عَنْهُمُ السُّدُسُ فَأَكْثَرُ مِنْهُ فُرِضَ لِلْأَبِ السُّدُسُ فَرِيضَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: باپ کی وراثت اس کے بیٹے اور بیٹی سے ہے اگر وہ فوت ہو جائے۔ اگر فوت شدہ مذکر اولاد یا پوتے چھوڑے تو باپ کے لیے فرض حصہ «سُدُسٌ» ”چھٹا حصہ“ ہے۔ اگر فوت شدہ کی اولاد مذکر نہ ہو اور نہ پوتے ہوں تو باپ کو مؤخر کیا جائے گا اور پہلے اہل فرائض کو ان کے حصے دیے جائیں گے۔ اگر «سُدُسٌ» ”چھٹے حصے“ سے زائد مال ہو تو وہ باپ کا ہو گا، اگر زائد نہ ہو تو صرف «سُدُسٌ» ”چھٹا حصہ“ باپ کا ہو گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، مِنْ كِتَابِهِ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ طَاوُسٍ: تَرَكَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ وَابْنَتَهُ، كَيْفَ؟ قَالَ: لِابْنَتِهِ النِّصْفُ لَا تُزَادُ، وَالسُّدُسُ لِلْأُمِّ، وَالسُّدُسُ لِلْأَبِ، ⦗٣٨٤⦘ ثُمَّ السُّدُسُ الْآخَرُ لِلْأَبِ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَدْنَى رَجُلٍ ذَكَرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن طاؤس رحمہ اللہ سے کہا کہ (ایک آدمی) نے باپ، ماں اور ایک بیٹی چھوڑی ہے، وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ انہوں نے کہا: بیٹی کے لیے نصف، ماں کے لیے سدس اور باپ کے لیے بھی سدس، پھر ایک اور سدس باپ کے لیے۔ پھر انہوں نے مجھے اپنے والد سے خبر دی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فرائض کے مال کو اس کے اہل کی طرف پہنچا دو۔ جو بچ جائے وہ قریبی مذکر کو دے دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَمُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ عَنْ وُهَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرائض کو اس کے اہل کی طرف پہنچا دو جو باقی بچے وہ قریبی مذکر کو دے دو۔“