أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: " جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ شَيْءٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ، فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ شَيْءٌ، وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قَضَى بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ، وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا، وَلَكِنْ هُوَ ذَاكَ السُّدُسُ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا، وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک «جَدَّة» (دادی، نانی) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اپنی میراث کا سوال کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”تیرے لیے اللہ کی کتاب میں کچھ نہیں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں نہیں جانتا کہ تیرے لیے کچھ ہو، تو لوٹ جا یہاں تک کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں۔“ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، آپ ﷺ نے «جَدَّة» کو «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ دیا“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تیرے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟“ تو محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے مغیرہ کی مثل کہا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے میراث مقرر کر دی، پھر ایک دوسری «جَدَّة» حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے میراث کا سوال کیا، انہوں نے کہا: ”اللہ کی کتاب میں تیرے لیے کوئی چیز نہیں اور جو فیصلہ کیا تھا، وہ تیرے علاوہ کے لیے تھا اور میں فرائض میں کچھ زیادتی نہیں کر سکتا۔ لیکن وہی «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ ہے، اگر تم دونوں اس میں جمع ہو جاؤ تو وہ تم دونوں کے درمیان ہوگا اور تم دونوں میں سے جو اکیلی ہو تو وہ اسی کے لیے ہوگا۔“ [صحیح]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَرَّثَ جَدَّةً سُدُسًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”جدہ کو سدس کا وارث ٹھہرایا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ الْعَتَكِيُّ أَبُو الْمُنِيبِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَطْعَمَ السُّدُسَ الْجَدَّةَ إِذَا لَمْ تَكُنْ أُمٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”جدہ کو ماں کے نہ ہونے کی صورت میں سدس دیا۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَى الْجَدَّةَ السُّدُسَ " وَرُوِيَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جدۃ کو سدس دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ أَخُو خَطَّابٍ، ثنا ابْنُ حُمَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَالْمَحْفُوظُ حَدِيثُ مَعْقِلٍ فِي الْجَدِّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
پچھلی حدیث کی طرح ہے۔
اسے صرف محمد بن حمید نے روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہیں، اور محفوظ معقل رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جو دادا کے بارے میں ہے، واللہ اعلم۔
اسے صرف محمد بن حمید نے روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہیں، اور محفوظ معقل رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جو دادا کے بارے میں ہے، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ: أَتَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَرَادَ أَنَ يَجْعَلَ السُّدُسَ لِلَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَمَا إِنَّكَ تَتْرُكُ الَّتِي لَوْ مَاتَتَا وَهُوَ حَيٌّ كَانَ إِيَّاهَا يَرِثُ " فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ السُّدُسَ بَيْنَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد فرماتے ہیں: دو جدہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ارادہ تھا کہ نانی کے لیے «السُّدُسُ» ”سدس“ مقرر کر دیں، انصار کے ایک آدمی نے کہا: ”آپ اسے چھوڑ رہے ہیں کہ اگر وہ مرتی اور مرنے والا زندہ ہوتا تو وہی اس کا وارث ہوتا؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو «السُّدُسُ» ”سدس“ دے دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَافِظِ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ، حَدَّثَكُمْ أَبُو عُبَيْدِ اللهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ جَدَّتَيْنِ أَتَتَا أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أُمُّ الْأُمِّ وَأُمُّ الْأَبِ، " فَأَعْطَى الْمِيرَاثَ أُمَّ الْأُمِّ دُونَ أُمِّ الْأَبِ "، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ قَدْ أَعْطَيْتَ الَّتِي لَوْ أَنَّهَا مَاتَتْ لَمْ يَرِثْهَا، " فَجَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ بَيْنَهُمَا، يَعْنِي السُّدُسَ " ⦗٣٨٦⦘ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي إِسْنَادٍ مُرْسَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ دو «جَدَّة» حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، نانی اور دادی؛ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نانی کو میراث دے دی، لیکن دادی کو نہ دی۔ عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: یا خلیفہ رسول اللہ ﷺ! تحقیق آپ نے وراثت اسے دی ہے، اگر وہ فوت ہو جائے تو یہ (میت) اس کا وارث نہیں بن سکتا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دونوں کے لیے «السُّدُسُ» مقرر کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: " إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى لِلْجَدَّتَيْنِ مِنَ الْمِيرَاثِ بَيْنَهُمَا السُّدُسُ سَوَاءٌ " إِسْحَاقُ عَنْ عُبَادَةَ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”دادی اور نانی کے لیے میراث کا فیصلہ اس طرح کیا کہ دونوں کو سدس میں برابر رکھا۔“
اسحاق کی عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے۔
اسحاق کی عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے۔