حدیث نمبر: 12335
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، مِنْ كِتَابِهِ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ طَاوُسٍ: تَرَكَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ وَابْنَتَهُ، كَيْفَ؟ قَالَ: لِابْنَتِهِ النِّصْفُ لَا تُزَادُ، وَالسُّدُسُ لِلْأُمِّ، وَالسُّدُسُ لِلْأَبِ، ⦗٣٨٤⦘ ثُمَّ السُّدُسُ الْآخَرُ لِلْأَبِ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَدْنَى رَجُلٍ ذَكَرٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن طاؤس رحمہ اللہ سے کہا کہ (ایک آدمی) نے باپ، ماں اور ایک بیٹی چھوڑی ہے، وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ انہوں نے کہا: بیٹی کے لیے نصف، ماں کے لیے سدس اور باپ کے لیے بھی سدس، پھر ایک اور سدس باپ کے لیے۔ پھر انہوں نے مجھے اپنے والد سے خبر دی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فرائض کے مال کو اس کے اہل کی طرف پہنچا دو۔ جو بچ جائے وہ قریبی مذکر کو دے دو۔“