کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: شوہر اور بیوی کے مقررہ حصوں کا بیان
حدیث نمبر: 12294
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْأُمِّ مِنْ وَلَدِهَا إِذَا تُوُفِّيَ ابْنُهَا وَابْنَتُهَا فَتَرَكَ وَلَدًا أَوْ وَلَدَ ابْنٍ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى، أَوْ تَرَكَ الِاثْنَيْنِ مِنَ الْإِخْوَةِ فَصَاعِدًا ذُكُورًا أَوْ إِنَاثًا مِنْ أَبٍ وَأُمٍّ، أَوْ مِنْ أَبٍ، أَوْ مِنْ أُمٍّ، السُّدُسُ، فَإِنْ لَمْ يَتْرُكِ الْمُتَوَفَّى وَلَدًا وَلَا وَلَدَ ابْنٍ وَلَا اثْنَيْنِ مِنَ الْإِخْوَةِ فَصَاعِدًا فَإِنَّ لِلْأُمِّ الثُّلُثَ كَامِلًا، إِلَّا فِي فَرِيضَتَيْنِ فَقَطْ، وَهُمَا أَنْ يُتَوَفَّى رَجُلٌ وَيَتْرُكَ امْرَأَتَهُ وَأَبَوَيْهِ، فَيَكُونَ لِامْرَأَتِهِ الرُّبُعُ، وَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ مِمَّا بَقِيَ، وَهُوَ ⦗٣٧٣⦘ الرُّبُعُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ، وَإِنْ تُتَوَفَّى امْرَأَةٌ وَتَتْرُكْ زَوْجَهَا وَأَبَوَيْهَا فَيَكُونَ لِزَوْجِهَا النِّصْفُ، وَلِأُمِّهَا الثُّلُثُ مِمَّا بَقِيَ، وَهُوَ السُّدُسُ مِنْ رأْسِ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے تفسیر ابی الزناد کے مطابق نقل فرماتے ہیں کہ ماں کی وراثت جبکہ اس کا بیٹا یا بیٹی فوت ہو جائے اور اس کی اولاد یا پوتے ہوں، مذکر ہوں یا مؤنث، یا اس کے دو بھائی ہوں، مذکر ہوں یا مؤنث، حقیقی، علاتی یا اخیافی، تو ماں کے لیے چھٹا حصہ ہوگا، اگر میت اوپر والے سارے رشتہ دار نہ چھوڑے تو ماں کے لیے ثلثِ کامل ہوگا مگر صرف دو حصوں میں اور وہ دونوں یہ ہیں کہ آدمی فوت ہو جائے اور بیوی اور والدین کو چھوڑے تو اس کی بیوی کے لیے ربع ہوگا اور ماں کے لیے باقی کا ثلث ہوگا اور وہ اصل مال کا ربع ہے اور اگر عورت فوت ہو جائے اور اپنا خاوند اور والدین چھوڑے تو خاوند کے لیے نصف ہوگا اور ماں کے لیے باقی کا ثلث ہوگا اور وہ اصل مال کا سدس ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12294
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12295
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَحْجُبُ الْأُمَّ بِالْأَخَوَيْنِ، فَقَالُوا لَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَإِنَّ اللهَ يَقُولُ: {فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ} [النساء: ١١]، وَأَنْتَ تَحْجُبُهَا بِأَخَوَيْنِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ الْعَرَبَ تُسَمِّي الْأَخَوَيْنِ إِخْوَةً " فَقَالُوا لَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، أَوَهِمْتَ؛ إِنَّمَا هِيَ ثَمَانِيَةُ أَزْوَاجٍ مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ، وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ، وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ، وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: " لَا، إِنَّ اللهَ يَقُولُ: {فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى} [القيامة: ٣٩]، فَهُمَا زَوْجَانِ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا زَوْجٌ، يَقُولُ: الذَّكَرُ زَوْجٌ، وَالْأُنْثَى زَوْجٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دو بھائیوں کی موجودگی میں ماں کے لیے حجب کا حکم لگاتے تھے، انہوں نے ان سے کہا: اے ابوسعید! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ﴾ [سورة النساء: 11] اور آپ دو بھائیوں کے ساتھ حجب کا حکم لگاتے ہیں؟ تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: عرب «أَخَوَيْنِ» کو «إِخْوَةٌ» سے تعبیر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اے ابوسعید! آپ کا خیال ہے کہ وہ آٹھ جوڑے ہیں: بھیڑ دو دو، بکریاں دو دو اور اونٹ بھی دو دو۔ تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى﴾ [سورة القيامة: 39] اس سے جوڑا بنایا مذکر اور مونث، پس وہ دونوں جوڑے ہیں۔ دونوں میں سے ہر ایک ایک حصہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: مذکر اور مونث جوڑا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12295
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12296
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ أُمَّهُ وَأَخَوَيْهِ، فَقَالَ: انْطَلِقْ إِلَى زَيْدٍ فَاسْأَلْهُ، ثُمَّ ارْجِعْ إِلِيَّ فَأَخْبِرْنِي مَا يَقُولُ زَيْدٌ، فَأَتَى زَيْدًا، فَقَالَ: " حُجِبَتِ الْأُمُّ عَنِ الثُّلُثِ، لَهَا سُدُسُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
انس بن سیرین سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا جو اپنی ماں اور دو بھائی چھوڑ گیا تو انہوں نے کہا: ”زید رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے سوال کرو، پھر مجھے بھی خبر دینا کہ زید کیا کہتے ہیں۔“ وہ زید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے کہا: ”ماں ثلث سے روک دی گئی ہے، اس کے لیے سدس ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12296
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12297
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا شَبَابَةُ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " إِنَّ الْأَخَوَيْنِ لَا يَرُدَّانِ الْأُمَّ عَنِ الثُّلُثِ، قَالَ اللهُ {فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ} [النساء: ١١] فَالْأَخَوَانِ بِلِسَانِ قَوْمِكَ لَيْسَا بِإِخْوَةٍ " فَقَالَ عُثْمَانُ: لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ مَا كَانَ قَبْلِي، وَمَضَى فِي الْأَمْصَارِ وَتَوَارَثَ بِهِ النَّاسُ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي أَبَوَيْنِ وَإِخْوَةٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا حَجَبَ الْإِخْوَةُ الْأُمَّ مِنَ الثُّلُثِ؛ لِيَكُونَ السُّدُسُ لَهُمْ، وَهُوَ بِخِلَافِ قَوْلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے کہ دو بھائی ماں کو ثلث سے دور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ﴾ [سورة النساء: 11] پس دو بھائی «إِخْوَان» تیری قوم کی زبان میں «إِخْوَة» نہیں ہیں تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا کہ میں رد کروں جو مجھ سے پہلے تھا اور گزر چکا اور لوگ اس کے وارث بن چکے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ والدین اور بھائیوں میں یہ ہے کہ وہ (بھائی) ماں کو ثلث سے روک دیتے ہیں اور اس کے لیے سدس ہے اور وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کے خلاف تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12297
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12298
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " فِي السُّدُسِ الَّذِي حَجَبَهُ الْإِخْوَةُ أُمَّهُ، هُوَ لِلْإِخْوَةِ وَلَا يَكُونُ لِلْأَبِ، إِنَّمَا نُقِصَتْهُ الْأُمُّ لِيَكُونَ لِلْإِخْوَةِ " قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: وَبَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُمُ السُّدُسَ، فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي أُعْطِيَ إِخْوَتُهُ السُّدُسَ، فَقَالَ: بَلَغَنَا أَنَّهَا كَانَتْ وَصِيَّةً لَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سدس کے بارے میں کہا کہ جس سے ماں کو بھائی روک دیتے ہیں وہ بھائیوں کے لیے ہے نہ کہ باپ کے لیے ہے۔ ماں کے حصہ سے کمی کی جاتی ہے اور وہ بھائیوں کے لیے ہوتا ہے۔
ابن طاؤس فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو سدس دیا ہے، میں اس آدمی کی اولاد میں سے کسی کو ملا جس کے بھائی کو سدس دیا گیا، اس نے کہا: ہمیں پتہ چلا تھا کہ ان کے لیے وصیت تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12298
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12299
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا ⦗٣٧٤⦘ مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " إِذَا سَلَكَ بِنَا طَرِيقًا وَجَدْنَاهُ سَهْلًا، وَإِنَّهُ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ فَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعَ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثَ مَا بَقِيَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ، وَزَادَ فِيهِ: وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَبِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب راستے میں ہمارے ساتھ چلتے تو ہم انہیں انتہائی نرم پاتے تھے، ان کے پاس ایک عورت اور والدین کا معاملہ لایا گیا تو انہوں نے عورت کے لیے «الرُّبُعُ» ”چوتھائی“ اور ماں کے لیے باقی کا «الثُّلُثُ» ”تہائی“ قرار دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12299
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " إِذَا سَلَكَ طَرِيقًا فَاتَّبَعْنَاهُ وَجَدْنَاهُ سَهْلًا، وَأَنَّهُ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ فَأَعْطَى الْمَرْأَةَ الرُّبُعَ، وَأَعْطَى الْأُمَّ ثُلُثَ مَا بَقِيَ، وَأَعْطَى الْأَبَ سَهْمَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب راستے میں ہمارے ساتھ چلتے تو ہم ان کی پیروی کرتے، ہم نے ان کو نرم پایا اور ان کے پاس ایک عورت اور والدین کا معاملہ لایا گیا تو انہوں نے عورت کو ربع دیا اور ماں کو باقی کا ثلث دیا اور باپ کو دو حصے دیے۔ [صحیح]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12300
حدیث نمبر: 12301
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عُثْمَانَ " فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ، أَنَّهُ جَعَلَهَا مِنْ أَرْبَعَةِ أَسْهُمٍ، لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ سَهْمٌ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ سَهْمٌ، وَلِلْأَبِ مَا بَقِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے عورت اور والدین کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے چار حصے بنائے، عورت کے لیے ربع اور ماں کے لیے ثلث اور باپ کے لیے جو باقی تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12301
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12302
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ، وَلِلْأَبِ سَهْمَانِ " وَرُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِخِلَافِ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خاوند کے لیے نصف اور ماں کے لیے باقی کا ثلث اور باپ کے لیے دو حصے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12302
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12303
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ قَالَ: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَلِلْأَبِ السُّدُسُ " الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُنْقَطِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے خاوند اور والدین کے بارے میں منقول ہے کہ خاوند کے لیے نصف، ماں کے لیے باقی کا ثلث اور باپ کے لیے سدس ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12303
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12304
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ، فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ: " لِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ " قَالَ: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَهَا الثُّلُثُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ایک عورت (بیوی) اور والدین کے بارے میں منقول ہے کہ ماں کے لیے باقی کا ثلث اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ماں کے لیے مکمل مال سے ثلث ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12304
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12305
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا الثَّوْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَسْأَلُهُ عَنْ زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ، فَقَالَ زَيْدٌ: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ، وَلِلْأَبِ بَقِيَّةُ الْمَالِ " فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لِلْأُمِّ الثُّلُثُ كَامِلًا " لَفْظُ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَفِي رِوَايَةِ رَوْحٍ: وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ، وَهُوَ السُّدُسُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَفِي كِتَابِ اللهِ تَجِدُ هَذَا؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَكْرَهُ أَنْ أُفَضِّلَ أُمًّا عَلَى أَبٍ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُعْطِي الْأُمَّ الثُّلُثَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تاکہ ان سے خاوند اور والدین کے بارے میں سوال کروں، زید رضی اللہ عنہ نے کہا: خاوند کے لیے نصف اور ماں کے لیے باقی کا ثلث اور باپ کے لیے باقی مال۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ماں کے لیے مکمل مال کا ثلث۔
ایک روایت میں ہے کہ ماں کے لیے باقی کا ثلث جو کہ سدس ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ کیا آپ کتاب اللہ میں اس طرح پاتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ ماں کو باپ پر ترجیح دوں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ماں کو تمام مال سے ثلث دیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12305
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12306
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بِمِثْلِهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ: أَبِكِتَابِ اللهِ قُلْتَ، أَمْ بِرَأْيِكَ؟ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: بِرَأْيِي، فَرَجَعْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَنَا أَقُولُ بِرَأْيِي: لِلْأُمِّ الثُّلُثُ كَامِلًا،.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے خبر دی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جاؤ واپس لوٹ جاؤ اور زید رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کتاب اللہ کے ساتھ کہتے ہو یا اپنی رائے سے؟ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں گیا تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی رائے سے کہتا ہوں۔ میں نے لوٹ کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خبر دی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا اور میں بھی اپنی رائے سے کہتا ہوں: ماں کے لیے کل مال کا ثلث ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12306
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ دون قوله وانا اقول برأبي»
حدیث نمبر: 12307
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنا يَزِيدُ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " خَالَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِيهَا النَّاسَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس مسئلہ میں لوگوں کی مخالفت کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12307
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12308
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " خَالَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَمِيعَ أَهْلِ الصَّلَاةِ فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خاوند اور والدین کے بارے میں تمام نماز والوں کی مخالفت کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12308
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12309
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا يَحْيَى، أنا يَزِيدُ، أنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ امْرَأَةً وَأَبَوَيْنِ، قَالَ: " قَسَمَهَا زَيْدٌ مِنْ أَرْبَعَةِ أَسْهُمٍ: لِلْمَرْأَةِ سَهْمٌ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ، وَلِلْأَبِ بَقِيَّةُ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید رِشک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جو فوت ہو گیا اور اس نے بیوی اور والدین چھوڑے، سعید رحمہ اللہ نے کہا: زید رضی اللہ عنہ نے اسے چار حصوں میں تقسیم کیا: بیوی کے لیے ایک حصہ اور ماں کے لیے باقی کا «ثُلُث» ”ایک تہائی“ اور باپ کا باقی ماندہ مال۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12309
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»