أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١]، قَالَ: " كَانَ الْمِيرَاثُ لِلْوَلَدِ، وَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ، فَنَسَخَ اللهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ، فَجَعَلَ لِلْوَلَدِ الذَّكَرِ مِثْلَ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، وَجَعَلَ لِلْوَالِدَيْنِ السُّدُسَيْنِ، وَجَعَلَ لِلزَّوْجِ النِّصْفَ أَوِ الرُّبُعَ، وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعَ أَوِ الثُّمُنَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ وَرْقَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وراثت اولاد کے لیے ہوتی تھی اور والدین کے لیے وصیت ہوتی تھی، اللہ تعالیٰ نے محبوب چیز کی وجہ سے اسے منسوخ کر دیا، مذکر اولاد کے لیے دو مؤنثوں کے برابر حصہ مقرر کیا اور والدین کے لیے چھٹے حصے مقرر کیے اور خاوند کے لیے نصف یا چوتھائی اور بیوی کے لیے چوتھا یا آٹھواں حصہ مقرر کر دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا كُلَّهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ قَالَ: " يَرِثُ الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا هِيَ لَمْ تَتْرُكْ وَلَدًا وَلَا وَلَدَ ابْنٍ النِّصْفَ، فَإِنْ تَرَكَتْ وَلَدًا أَوْ وَلَدَ ابْنٍ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى وَرِثَهَا زَوْجُهَا الرُّبُعَ، لَا يَنْقُصُ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، وَتَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا إِذَا هُوَ لَمْ يَتْرُكْ وَلَدًا وَلَا وَلَدَ ابْنٍ الرُّبُعَ، فَإِنْ تَرَكَ وَلَدًا أَوْ وَلَدَ ابْنٍ وَرِثَتْهُ امْرَأَتُهُ الثُّمُنَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان فرائض کے مفاہیم اور اصول سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ہیں اور ان کی تفسیر ابوالزناد سے ہے۔ انہوں نے کہا: آدمی اپنی بیوی کا وارث ہو گا نصف کا، جبکہ اس نے اولاد یا پوتے نہ چھوڑے ہوں۔ اگر اس نے اولاد یا پوتے مذکر یا مؤنث چھوڑے ہوں تو آدمی ربع کا حصہ دار ہو گا اور بیوی خاوند کی وارث بنے گی جبکہ اس نے اولاد نہ چھوڑی ہو اور نہ ہی پوتے ہوں ربع کی، اور اگر اس نے اولاد یا پوتے چھوڑے ہوں تو بیوی آٹھویں حصے کی وارث بنے گی۔