حدیث نمبر: 12310
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اگر اکیلی ہو تو اس کے لیے نصف ہے﴾ [سورة النساء: 11]۔
حدیث نمبر: 12310
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا ⦗٣٧٦⦘ شُعْبَةُ، ثنا أَبُو قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ هُزَيْلَ بْنَ شُرَحْبِيلَ يَقُولُ: سُئِلَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنِ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ، فَقَالَ: لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، قَالَ: وَائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي، فَسُئِلَ عَنْهَا ابْنُ مَسْعُودٍ وَأَخْبَرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ، أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةً لِلْثُلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ "، قَالَ: فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیٹی، پوتی اور بہن کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”بیٹی کے لیے نصف اور بہن کے لیے بھی نصف“ اور کہا: ”ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ، وہ بھی میرے والی بات کہیں گے“، پس ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں پوچھا گیا اور انہیں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی بات بھی بتائی گئی تو انہوں نے کہا: ”تحقیق میں اس وقت گمراہ ہوں گا اور ہدایت پر نہیں ہوں گا، میں اس بارے میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ: ”بیٹی کے لیے نصف، پوتی کے لیے سدس دو تہائی پورا کرنے والا اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے۔““ راوی کہتے ہیں: ہم ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ہم نے انہیں ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: ”تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں اس وقت تک سوال نہ کرو جب تک یہ تم میں موجود ہیں۔“