کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ماں کے ہوتے ہوئے دادی یا نانی وارث نہیں ہوتی
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَقَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَتَكِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَطْعَمَ الْجَدَّةَ السُّدُسَ إِذَا لَمْ تَكُنْ أُمٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن ابی بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”دادی یا نانی کو جب ماں نہ تھی سدس حصہ دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12290
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْجَدَّاتِ أَنَّ أُمَّ الْأُمِّ لَا تَرِثُ مَعَ الْأُمِّ شَيْئًا، وَهِيَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ يُفْرَضُ لَهَا السُّدُسُ فَرِيضَةً، وَأَنَّ أُمَّ الْأَبِ لَا تَرِثُ مَعَ الْأُمِّ وَلَا مَعَ الْأَبِ شَيْئًا، وَهِيَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ يُفْرَضُ لَهَا السُّدُسُ فَرِيضَةً ".
حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان فرائض کے مفاہیم اور اصول زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں اور ان کی تفسیر ابوالزناد رحمہ اللہ سے ہے، اس میں ہے کہ نانی، ماں کی موجودگی میں کسی چیز کی حق دار نہیں ہے اور اس کے علاوہ صورتوں میں اس کے لیے «السُّدُسُ» ”سدس“ حصہ مقرر کیا جاتا ہے اور دادی، ماں اور باپ کی موجودگی میں کسی چیز کی وارث نہیں ہوگی اور اس کے علاوہ صورتوں میں اس کے لیے «السُّدُسُ» ”سدس“ حصہ مقرر کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12291
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»