کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: باپ، دادا، اولاد اور پوتے کی وجہ سے ماں شریک بھائیوں اور بہنوں کے محروم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12262
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ قَانِفٍ يَقُولُ: قَرَأْتُ عَلَى سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ حَتَّى بَلَغْتُ {وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً} [النساء: ١٢] أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ، فَقَالَ سَعْدٌ: " مِنْ أُمِّهِ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن ربیعہ بن قانف فرماتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھا یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا ﴿وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ﴾ [سورة النساء: 12] اگر آدمی کلالہ کا وارث بنے یا عورت ہو اور اس کا بھائی ہو، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ماں کی طرف سے بھائی ہو۔
حدیث نمبر: 12263
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سُئِلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ: " إِنِّي سَأَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ يَكُ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، أُرَاهُ مَا خَلَا الْوَلَدَ وَالْوَالِدَ" فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنَ اللهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں اپنی رائے دوں گا، اگر وہ صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے اور اگر غلط ہو تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے۔ کلالہ میرے نزدیک وہ ہے جس کی اولاد اور والدین نہ ہوں، پس جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے کہا: مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کہی ہوئی بات کا انکار کروں۔
حدیث نمبر: 12264
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ إِخْوَةً مِنْ أُمٍّ مَعَ جَدٍّ فَقَدْ كَذَبَ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: جس نے یہ گمان کیا کہ اصحابِ محمد ﷺ میں سے کسی نے اخیافی بھائی کو دادا کے ساتھ وارث بنایا ہے تو تحقیق اس نے جھوٹ بولا۔
حدیث نمبر: 12265
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ ⦗٣٦٧⦘ الْمُبَارَكِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " مَا وَرَّثَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأُمِّ مَعَ الْجَدِّ شَيْئًا قَطُّ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اصحابِ محمد ﷺ رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کبھی بھی اخیافی بھائی کو دادا کے ساتھ وارث نہیں ٹھہرایا۔
حدیث نمبر: 12266
قَالَ: وَأنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
پچھلی حدیث کی طرح ہے۔