کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: باپ، بیٹے اور پوتے کی وجہ سے ہر قسم کے بھائیوں اور بہنوں کے محروم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12267
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي؟ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي؟ فَلَمْ يُحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦] " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت کی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے مال میں کیا فیصلہ کروں؟ آپ ﷺ نے مجھے ابھی کچھ نہ کہا تھا کہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] ”وہ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: اللہ تعالیٰ کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 12268
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: " مَرِضْتُ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦] " مَنْ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ. وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ، فَسَمَّى مَنْ يَرِثُهُ كَلَالَةً، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ آيَةُ الْكَلَالَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَلَا وَالِدٌ؛ لِأَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَهَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ بَعْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن منکدر رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں بیمار ہوا تو نبی ﷺ نے میری عیادت کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے، وہ پیدل چلتے ہوئے آئے اور میں بے ہوش تھا، میں نے آپ ﷺ سے کوئی بات نہ کی، آپ ﷺ نے وضو کیا اور مجھ پر وضو کے چھینٹے ڈالے، مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے مال کا کیا کروں؟ اور میری بہنیں بھی ہیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آیتِ میراث نازل ہوئی ہے: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176]“ یعنی جس کی اولاد نہ ہو اور بہنیں ہوں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا وارث کلالہ بنا ہے، تو انہوں نے نام لیا کہ کون کلالہ وارث ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: آیتِ میراث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی، نہ ان کی کوئی اولاد تھی اور نہ والدین تھے، کیونکہ ان کے والد احد کے دن شہید ہو گئے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: آیتِ میراث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی، نہ ان کی کوئی اولاد تھی اور نہ والدین تھے، کیونکہ ان کے والد احد کے دن شہید ہو گئے تھے۔
حدیث نمبر: 12269
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: " آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦] " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ عَنْ وَكِيعٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی وہ یہ تھی: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176]۔
حدیث نمبر: 12270
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، ⦗٣٦٨⦘ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: مَا أَغْلَظَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَا نَازَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ أَكْثَرَ مِنْ آيَةِ الْكَلَالَةِ، حَتَّى ضَرَبَ صَدْرِي وَقَالَ: " يَكْفِيكَ مِنْهَا آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَسَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءٍ يَعْلَمُهُ مَنْ يَقْرَأُ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ "، وَهُوَ مَا خَلَا الْأَبَ، كَذَا أَحْسَبُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
معدان بن ابی طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، اس میں یہ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آیتِ کلالہ کے بارے میں بار بار سوال کیا، اتنا کسی اور چیز کے بارے میں نہیں پوچھا اور آپ ﷺ نے بھی اتنی ہی سختی سے مجھے جواب دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے وہ آیت کافی نہیں جو گرمی کے موسم میں نازل ہوئی، جو سورة النساء کے آخر میں ہے: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176]۔“ عنقریب میں ایسا فیصلہ دوں گا کلالہ کے بارے میں، اس کو جان لے گا جو پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا اور وہ (کلالہ) جس کا باپ نہ ہو جیسا کہ میں نے سمجھا ہے۔
حدیث نمبر: 12271
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلَالَةِ، فَمَا الْكَلَالَةُ؟ قَالَ: " تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ "، قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: هُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا؟ قَالَ: كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّهُ كَذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ آپ سے کلالہ کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ پس کلالہ کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے گرمی کے موسم میں نازل ہونے والی آیت کافی ہوگی۔“ میں نے ابواسحاق سے کہا: کلالہ وہ ہے جو فوت ہو جائے اور نہ اولاد چھوڑے نہ والدین، اسی طرح انہوں نے خیال کیا۔
حدیث نمبر: 12272
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّاوُدِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦]، قَالَ: " مَنْ لَمْ يَتْرُكْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا فَوَرَثَتُهُ كَلَالَةٌ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى عَمَّارٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ فِي الْكَلَالَةِ قَالَ: " تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ " قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا هُوَ الْمَشْهُورُ، وَحَدِيثُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُنْقَطِعٌ وَلَيْسَ بِمَعْرُوفٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اولاد اور والدین نہ چھوڑے اس کے ورثاء کلالہ ہیں۔“
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کلالہ کے بارے میں منقول ہے کہ تجھے آیت الصیف کافی ہوگی۔
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کلالہ کے بارے میں منقول ہے کہ تجھے آیت الصیف کافی ہوگی۔
حدیث نمبر: 12273
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْكَلَالَةُ مَا عَدَا الْوَلَدَ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: " الْكَلَالَةُ مَا عَدَا الْوَلَدَ وَالْوَالِدَ " فَلَمَّا طُعِنَ عُمَرُ قَالَ: " إِنِّي لَأَسْتَحْيِي أَنْ أُخَالِفَ أَبَا بَكْرٍ، الْكَلَالَةُ مَا عَدَا الْوَلَدَ وَالْوَالِدَ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کلالہ وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو“، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کلالہ وہ ہے جس کی اولاد اور والدین نہ ہوں“، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں مطعون کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”میں شرم محسوس کرتا ہوں کہ کلالہ کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کروں۔“
حدیث نمبر: 12274
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنِ السُّمَيْطِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ مَا أَدْرِي مَا الْكَلَالَةُ، وَإِذِ الْكَلَالَةُ مَنْ لَا أَبَ لَهُ وَلَا وَلَدَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے اوپر ایسا وقت بھی آیا ہے کہ میں نہیں جانتا تھا کلالہ کیا ہے اور کلالہ وہ ہے جس کا نہ باپ ہو اور نہ اولاد۔
حدیث نمبر: 12275
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " الْكَلَالَةُ الَّذِي لَا يَدَعُ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سلیم بن عبداللہ سلولی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ کلالہ وہ ہے جو نہ اولاد چھوڑے اور نہ والدین۔
حدیث نمبر: 12276
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْكَلَالَةِ، قَالَ: " هُوَ مَا عَدَا الْوَالِدَ وَالْوَلَدَ " قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ} [النساء: ١٧٦]، قَالَ: فَغَضِبَ وَانْتَهَرَنِي.
حافظ ثناء اللہ
حسن بن محمد کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جس کے والدین اور اولاد نہ ہو۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ﴾ [سورة النساء: 176] تو انہوں نے مجھے ڈانٹا اور غصے میں آ گئے۔
حدیث نمبر: 12277
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ: " مَنْ لَا وَلَدَ لَهُ وَلَا وَالِدَ "، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ اللهُ {إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ} [النساء: ١٧٦]، فَغَضِبَ وَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: " مَنْ لَا وَلَدَ لَهُ وَلَا وَالِدَ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «الْكَلَالَةُ» کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین۔ میں نے کہا: اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ﴾ [سورة النساء: 176] تو وہ غصے میں آ گئے اور مجھے ڈانٹا اور پھر کہا: جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین۔
حدیث نمبر: 12278
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " كُنْتُ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: الْقَوْلُ مَا قُلْتُ، قُلْتُ: مَا قُلْتَ؟ قَالَ: الْكَلَالَةُ مَنْ لَا وَلَدَ لَهُ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَالَّذِي رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَفْسِيرِ الْكَلَالَةِ أَشْبَهُ بِدَلَائِلِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَأَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا؛ لِانْفِرَادِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَتَظَاهُرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُمَا بِخِلَافِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہتے تھے: میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگوں میں آخر پر تھا، جس نے سنا وہ بھی میرے جیسی بات کہتے تھے، طاؤس رحمہ اللہ نے پوچھا: آپ کیا کہتے ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں کہتا ہوں کہ کلالہ وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو۔
حدیث نمبر: 12279
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ مُرَّةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ثَلَاثٌ لَأَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيَّنَهُنَّ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ: الْخِلَافَةُ، وَالْكَلَالَةُ، وَالرِّبَا " فَقُلْتُ لِمُرَّةَ: وَمَنْ يَشُكُّ فِي الْكَلَالَةِ مَا هُوَ دُونَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ يَشُكُّونَ فِي الْوَالِدِ.
حافظ ثناء اللہ
مرہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تین چیزیں ایسی ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے واضح کیا، جو مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں: خلافت، کلالہ اور ربا۔ میں نے مرہ سے کہا: کون کلالہ کے بارے میں شک کرتا ہے کہ وہ اولاد اور والد کے علاوہ ہے؟ مرہ نے جواب دیا: وہ والد کے بارے میں شک کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12280
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ ⦗٣٧٠⦘ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ أَنَّهُمْ لَا يَرِثُونَ مَعَ الْوَلَدِ وَلَا مَعَ وَلَدِ الِابْنِ ذَكَرًا كَانَ أَوْ أُنْثَى شَيْئًا، وَلَا مَعَ الْأَبِ وَلَا مَعَ الْجَدِّ أَبِي الْأَبِ شَيْئًا، قَالَ: وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ أَنَّهُمْ لَا يَرِثُونَ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ، وَلَا مَعَ وَلَدِ الِابْنِ الذَّكَرِ، وَلَا مَعَ الْأَبِ شَيْئًا "، قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ أَحَدٌ مِنْ بَنِي الْأُمِّ وَالْأَبِ كَمِيرَاثِ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ سَوَاءٌ، فَإِذَا اجْتَمَعَ الْإِخْوَةُ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْإِخْوَةُ مِنَ الْأَبِ فَكَانَ فِي بَنِي الْأُمِّ وَالْأَبِ ذَكَرٌ فَلَا مِيرَاثَ مَعَهُ لِأَحَدٍ مِنَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان فرائض کے مفاہیم اور اصول زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ہیں اور ان مفاہیم کی تفسیر ابوالزناد رحمہ اللہ سے ہے۔ فرماتے ہیں: وہ اخیافی بھائیوں کو اولاد، پوتے، باپ اور دادا کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے (اولاد، پوتے چاہے مذکر ہوں یا مؤنث) اور حقیقی بھائیوں کو مذکر اولاد، پوتے اور باپ کے ساتھ وارث نہ ٹھہراتے تھے اور علاتی بھائیوں کو حقیقی بیٹے نہ ہونے کی صورت میں حقیقی بھائیوں کی وراثت کے برابر ٹھہراتے تھے، جب حقیقی بھائی اور علاتی بھائی جمع ہو جائیں اور ادھر حقیقی بیٹا مذکر موجود ہو تو اس کے ساتھ علاتی بھائیوں کے لیے کوئی وراثت نہ ہوگی۔