کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مالدار اور فقیر کا لقطہ کو استعمال کر لینا جب ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد اسے پہچانا نہ جا سکے
حدیث نمبر: 12050
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا "، قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأَكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو اچھی طرح پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو دے دو ورنہ وہ تیری ہی ہے۔“ اس نے پوچھا: گم شدہ بکری کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے۔“ اس نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں کیا ہے؟ اس کے ساتھ اس کی سیراب کرنے کی چیز اور اس کے کھر ہیں، وہ پانی پر جا سکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک پا لے۔“
حدیث نمبر: 12051
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْهَا " أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو، ورنہ اسے اپنے خرچ میں شامل کر لو۔“
حدیث نمبر: 12052
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ، فَقَالَ: " اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ فَاسْتَنْفِقْهَا، وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سونے اور چاندی کی گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک نہ ملے تو اسے اپنے خرچے میں شامل کر لو اور وہ تیرے پاس امانت ہو گی، اگر اس کا طالب کسی بھی وقت آ جائے تو اسے دے دو۔“
حدیث نمبر: 12053
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَامِدٍ ⦗٣٠٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشَّاةِ الضَّالَّةِ، فَقَالَ: " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "، وَسُئِلَ عَنِ الْبَعِيرِ، فَغَضِبَ وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ: " مَعَهُ سِقَاؤُهُ وَحِذَاؤُهُ، يَرِدُ الْمَاءَ، وَيَرْعَى الشَّجَرَ "، وَسُئِلَ عَنِ النَّفَقَةِ، فَقَالَ: " تُعَرِّفُهَا حَوْلًا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا عَرَفْتَ وِكَاءَهَا أَوْ عِفَاصَهَا ثُمَّ أَفَضْتَهَا فِي مَالِكَ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے۔“ اور اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور غصے میں آ گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس اس کا سیراب کرنے کا سامان اور اس کا گھر ہے، وہ پانی پی سکتا ہے، درختوں سے پتے کھا سکتا ہے۔“ اور خرچ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کا ایک سال تک اعلان کر۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو، ورنہ اس کے بندھن اور تھیلی کو اچھی طرح پہچان لو اور پھر اپنے مال میں شامل کر لو؛ اگر اس کا مالک آ جائے تو دے دینا۔“
حدیث نمبر: 12054
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَارْدُدْهَا إِلَيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک نہ آئے تو اس کی تھیلی اور بندھن کو اچھی طرح پہچان لو، پھر کھالو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے لوٹا دینا۔“
حدیث نمبر: 12055
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ يَقُولُ: كُنْتُ فِي غَزْوَةٍ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَقَالَ لِي زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ: اطْرَحْهُ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَقَضَيْنَا غَزَاتِنَا ثُمَّ حَجَجْتُ فَمَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ فَلَقِيتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِي: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " عَرِّفْهَا حَوْلًا " فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَعُدْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا حَوْلًا "، فَعَرَّفْتُهَا ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا حَوْلًا آخَرَ " فَعَرَّفْتُهَا ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ، قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: " احْفَظْ عِدَّتَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " قَالَ سَلَمَةُ: لَا أَدْرِي أَقَالَ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ " عَرِّفْهَا " أَوْ قَالَ حَوْلًا. ⦗٣٠٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ آدَمَ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ قَوْلُ سَلَمَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ..
حافظ ثناء اللہ
سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سوید بن غفلہ رحمہ اللہ سے سنا کہ میں غزوہ میں تھا، مجھے ایک کوڑا ملا۔ میں نے اسے پکڑ لیا، مجھے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اسے پھینک دو۔ میں نے انکار کر دیا، ہم نے غزوہ مکمل کیا۔ پھر میں نے حج کیا، اور میں مدینہ سے گزرا تو مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ملے۔ میں نے یہ قصہ ذکر کیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے دور میں سو دینار کی تھیلی ملی۔ میں وہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے مجھے کہا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال تک اعلان کیا۔ لیکن میں نے ایسا کوئی نہ پایا جو اسے پہچان لیتا۔ میں پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے کہا: ”ایک سال اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے کہا: ”ایک سال اور اعلان کرو۔“ میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ چوتھی دفعہ آپ ﷺ نے کہا: ”ان کو شمار کرو اور اس کے بندھن کو اچھی طرح یاد کر لو۔ اگر اس کا مالک آئے تو دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا لو۔“ سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ اعلان کا کہا یا ایک دفعہ۔
حدیث نمبر: 12056
وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ فِي آخِرِهِ: " فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَهِيَ كَسَبِيلِ مَالِكَ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ دُونَ قَوْلِ سَلَمَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ سُفْيَانَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ فَقَالَ: " انْتَفِعْ بِهَا " وَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ فَقَالَ: " ثُمَّ اقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ " وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ فَقَالَ: " وَاسْتَمْتِعْ بِهَا " وَكُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى مَعْنًى وَاحِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سلمہ بن کہیل نے آخر میں کہا: ”اگر اس کا مالک آجائے تو دے دینا ورنہ وہ (تیرے پاس) مالک کی طرح ہی ہے۔“
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ“، یہ بھی الفاظ ہیں کہ ”اس سے نفع اٹھاؤ“۔ یہ بھی الفاظ ہیں کہ ”اس سے اپنی ضرورت پوری کر“ اور یہ بھی کہ ”اس سے فائدہ اٹھا“، سب کے ایک ہی معنی ہیں۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ“، یہ بھی الفاظ ہیں کہ ”اس سے نفع اٹھاؤ“۔ یہ بھی الفاظ ہیں کہ ”اس سے اپنی ضرورت پوری کر“ اور یہ بھی کہ ”اس سے فائدہ اٹھا“، سب کے ایک ہی معنی ہیں۔
حدیث نمبر: 12057
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوَيْ عَدْلٍ أَوْ ذَا عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جسے کوئی گری پڑی چیز ملے وہ عدل والے دو شخص یا ایک گواہ بنا لے اور نہ اسے چھپائے اور نہ غائب کرے۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کا حق دار ہے ورنہ وہ اللہ کا مال ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 12058
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " مَا كَانَ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمِئْتَاءِ وَالْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ فَعَرِّفُوهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَهِيَ لَكَ، وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ فَفِيهَا وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بنجر زمین یا پھیلی ہوئی بستی سے ملے، اس کا ایک سال تک اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو دے دو، اگر نہ آئے تو وہ تیرے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 12059
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرٍو وَعَاصِمٍ ابْنَىْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَجَدَ عَيْبَةً، فَأَتَى بِهَا ⦗٣١٠⦘ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ عُرِفَتْ فَذَاكَ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ، فَلَمْ تُعْرَفْ " فَلَقِيَهُ بِهَا الْقَابِلَ فِي الْمَوْسِمِ فَذَكَرَهَا لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: " هِيَ لَكَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ "، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا، فَقَبَضَهَا عُمَرُ فَجَعَلَهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهَا عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَتْ: اسْتَمْتِعِي بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک ٹوکری ملی، وہ اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ تیری ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔“ اس نے کہا: مجھے یہ روایت بھی کی گئی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے گری پڑی چیز کے بارے میں ایک عورت نے سوال کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”تو اس سے فائدہ اٹھا۔“
حدیث نمبر: 12060
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ وَجَدَ دِينَارًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يُعَرِّفَهُ، فَلَمْ يُعْتَرَفْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأَكُلَهُ، ثُمَّ جَاءَ صَاحِبُهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْرَمَهُ " ⦗٣١١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِمَّنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ؛ لِأَنَّهُ مِنْ صَلِيبَةِ بَنِي هَاشِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک دینار ملا۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ”اس کا اعلان کرو“، لیکن کسی نے نہ پہچانا، آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”اس کو کھا لو“، پھر اس کا مالک آگیا تو آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”اسے ادا کرو“۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان میں سے ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اس لیے کہ وہ بنی ہاشم سے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان میں سے ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اس لیے کہ وہ بنی ہاشم سے ہیں۔
حدیث نمبر: 12061
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ هُزَيْلًا يَقُولُ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَتَاهُ رَجُلٌ بِصُرَّةٍ مَخْتُومَةٍ، فَقَالَ: قَدْ عَرَّفْتُهَا وَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، قَالَ: " اسْتَمْتِعْ بِهَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَكَذَا السُّنَّةُ الثَّابِتَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَوْا حَدِيثًا عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ اشْتَرَى جَارِيَةً، فَذَهَبَ صَاحِبُهَا فَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهَا وَقَالَ: اللهُمَّ عَنْ صَاحِبِهَا، فَإِنْ كَرِهَ فَلِي وَعَلَيَّ الْغُرْمُ، ثُمَّ قَالَ: وَهَكَذَا يُفْعَلُ بِاللُّقَطَةِ، فَخَالَفُوا السُّنَّةَ فِي اللُّقَطَةِ الَّتِي لَا حُجَّةَ مَعَهَا، وَخَالَفُوا حَدِيثَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي يُوَافِقُ السُّنَّةَ، وَهُوَ عِنْدَهُمْ ثَابِتٌ، وَاحْتَجُّوا بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَهُمْ يُخَالِفُونَهُ فِيمَا هُوَ فِيهِ بِعَيْنِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ مَا يُوَافِقُ قَوْلَ الْعِرَاقِيِّينَ.
حافظ ثناء اللہ
ہذیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے پاس ایک آدمی ایک بند تھیلی لے کر آیا اور کہا: ”میں نے اس کا اعلان کیا ہے لیکن کسی نے اسے نہیں پہچانا۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس سے فائدہ اٹھا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے اور انہوں نے عامر رحمہ اللہ سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لونڈی خریدی، اس کا مالک گیا اور اس کی قیمت صدقہ کردی اور کہا: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ رَبِّهَا» ”اے اللہ! یہ اس کے مالک کی طرف سے ہے۔ اگر اس نے لونڈی کو ناپسند کیا تو میری ہے اور مجھ پر اس کی قیمت ہے۔“ پھر کہا: ”اسی طرح گری پڑی چیز کا حکم ہے۔“ انہوں نے گری ہوئی چیز کے بارے میں سنت کی مخالفت کی، ان کے پاس دلیل نہ تھی اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مخالفت کی جو سنت کے موافق ہے اور وہ ان کے ہاں ثابت ہے اور انہوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے اور دوسرے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عراقیوں کے قول کے موافق روایت کیا گیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے اور انہوں نے عامر رحمہ اللہ سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لونڈی خریدی، اس کا مالک گیا اور اس کی قیمت صدقہ کردی اور کہا: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ رَبِّهَا» ”اے اللہ! یہ اس کے مالک کی طرف سے ہے۔ اگر اس نے لونڈی کو ناپسند کیا تو میری ہے اور مجھ پر اس کی قیمت ہے۔“ پھر کہا: ”اسی طرح گری پڑی چیز کا حکم ہے۔“ انہوں نے گری ہوئی چیز کے بارے میں سنت کی مخالفت کی، ان کے پاس دلیل نہ تھی اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مخالفت کی جو سنت کے موافق ہے اور وہ ان کے ہاں ثابت ہے اور انہوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے اور دوسرے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عراقیوں کے قول کے موافق روایت کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 12062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي رُؤَاسٍ وَجَدَ صُرَّةً فَأَتَى بِهَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا دَرَاهِمَ، وَقَدْ عَرَّفْتُهَا وَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَجَعَلْتُ أَشْتَهِي أَنْ لَا يَجِيءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، قَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَرَضِيَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ، وَإِنْ لَمْ يَرْضَ غَرِمْتَهَا وَكَانَ لَكَ الْأَجْرُ " عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ غَيْرُ قَوِيٍّ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا جَوَازَ الْأَكْلِ، ⦗٣١٢⦘ وَرُوِّينَاهُ بِأَسَانِيدَ صِحَاحٍ مَوْصُولَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّابِتَةُ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنی رواس کے ایک آدمی کو ایک تھیلی ملی، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھیلی لے کر آیا، اس نے کہا: ”میں نے اس میں رقم پائی ہے اور میں نے اس کو متعارف بھی کروایا ہے، لیکن کسی نے اسے پہچانا نہیں ہے اور میرے خیال میں کوئی بھی اسے پہچاننے والا نہیں ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو، اگر اس کا مالک آ جائے اور وہ صدقہ پر راضی ہو تو اس کے لیے اجر ہو گا، ورنہ تو اسے (رقم) دے دینا اور تجھے اجر مل جائے گا۔“
حدیث نمبر: 12063
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ لُقَطَةً فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ: إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً، فَمَاذَا تَرَى؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: " عَرِّفْهَا "، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: " زِدْ "، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: " لَا آمُرُكَ أَنْ تَأَكُلَهَا، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا " زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: ابْنُ عُمَرَ لَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ سَمِعَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللُّقَطَةِ، وَلَوْ لَمْ نَسْمَعْهُ انْبَغَى أَنْ نَقُولَ: لَا يَأْكُلُهَا، كَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو کوئی گری پڑی چیز ملی، وہ لے کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا: مجھے یہ چیز ملی ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: اس کا اعلان کر دو۔ اس نے کہا: میں نے ایسا کیا ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اور زیادہ کر۔ اس نے کہا: میں نے کیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تجھے یہ حکم نہیں دیتا کہ اسے کھالے، اگر تو چاہتا تو نہ پکڑتا۔
حدیث نمبر: 12064
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ قَالَ: " ادْفَعْهَا إِلَى الْأَمِيرِ ".
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے امیر کو دے دو۔