کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ملنے والی چیزوں میں سے جن کا اٹھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12065
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ الْمِصْرِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا "، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: " مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، وَتَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَالثَّوْرِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَلَاثَتِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
حدیث نمبر ۱۲۰۵۰ والا ترجمہ ہے۔
حدیث نمبر: 12066
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَيُّوبَ ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " خُذْهَا؛ فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، قَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " وَقَالَ يَحْيَى: عَنْ أَيُّوبَ: " دَعْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةَ وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال تک اعلان کرو۔ پھر اس کی تھیلی اور بندھن کو اچھی طرح پہچان لو۔ پھر اسے اپنے خرچہ میں شامل کر لو۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دینا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گم شدہ بکریوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہیں یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! گم شدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ رسول اللہ ﷺ غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں کیا ہے؟ اس کے ساتھ اس کا کھر اور سیراب کرنا ہے، یہاں تک کہ اسے اس کا مالک پا لے۔“
حدیث نمبر: 12067
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قِشْمَرْدُ، أنبأ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ، فَقَالَ: " اعْرِفْ وِكَاءهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاسْتَنْفِقْهَا، وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ "، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، ⦗٣١٤⦘ فَقَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا؟ دَعْهَا؛ فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا "، وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ، فَقَالَ: " خُذْهَا؛ فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گم شدہ سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر نہ پہچانی جائے تو اسے اپنے خرچہ میں شامل کر لے اور وہ تیرے پاس امانت ہو گی۔ اگر اس کا مالک کسی بھی وقت آجائے تو اسے دے دینا“۔ اس نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں کیا ہے! پس اسے چھوڑ دو، اس کے ساتھ اس کا کھر اور سیراب کرنا ہے، وہ پانی پر وارد ہو سکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک پا لے“۔
حدیث نمبر: 12068
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالَ: " مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، لَا يَأْكُلُهَا الذِّئْبُ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، فَدَعْهَا مَكَانَهَا حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا "، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ، قَالَ: " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، اجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا "، قَالَ: اللُّقَطَةُ يَجِدُهَا؟ قَالَ: " مَا كَانَ فِي الْعَامِرَةِ وَالسَّبِيلِ الْغَامِرَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا يُوجَدُ فِي الْقَرْيَةِ الْخَرَابِ الْعَادِيِّ؟ قَالَ: " فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَبِمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " طَعَامٌ مَأْكُولٌ، لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ "، وَقَدْ مَضَى بِإِسْنَادِهِ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے مزینہ کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے سنا، اس نے رسول اللہ ﷺ سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا اور میں سن رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اس کا گھر اور سیراب کرنے کی چیز ہے، اسے بھیڑیا نہیں کھا سکتا، وہ پانی پی لیتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے، اسے اس کی جگہ پر چھوڑ دو یہاں تک کہ اس کو تلاش کرنے والا آ جائے۔“ اس نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے، اس کو پکڑ لو یہاں تک کہ اس کو تلاش کرنے والا آ جائے۔“ اس نے کہا: جو گری پڑی چیز ہم پا لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو آبادی میں ہو یا آباد راستے میں اسے ایک سال تک متعارف کراؤ، اگر اسے تلاش کرنے والا آ جائے تو اسے دے دو ورنہ وہ تیرے لیے ہے۔“ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جو کسی غیر آباد جگہ سے ملے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں اور «الرِّكَازِ» ”رکاز“ میں «الْخُمُسُ» ”خمس“ ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ اس نے کہا: گم شدہ بکری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھانا ہے جو تیرے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے؟ اسے روک لو اپنے بھائی کے لیے جس نے اسے گم کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 12069
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ، خَالُ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْبَوَازِيجِ بِالسَّوَادِ، فَرَاحَتِ الْبَقَرُ، فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ؟ قَالُوا: بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ، فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت منذر بن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ بوازیج مقام پر ایک لشکر میں تھا، ایک گائے آئی۔ انہوں نے اس نئی گائے کو دیکھا اور کہا: یہ گائے کس کی ہے؟ انہوں نے (لشکر والوں) نے جواب دیا: یہ گائے ہماری گائے کے ساتھ مل گئی ہے، آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے نکال دو۔ وہ نکال دی گئی یہاں تک کہ وہ چھپ گئی۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”گمشدہ چیز کو گمراہ شخص ہی پناہ دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 12070
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُطَبِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنِ الْجَارُودِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَأْتِي عَلَيَّ ضَالَّةُ الْإِبِلِ فَأَتْرُكُهَا؟ فَقَالَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
جارود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کوئی گمشدہ اونٹ پاؤں تو اسے چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے۔“
حدیث نمبر: 12071
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ⦗٣١٥⦘ ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنِ الْجَارُودِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ حَرْقُ النَّارِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جارود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے۔“
حدیث نمبر: 12072
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنِ الْجَارُودِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عَلَى إِبِلٍ عِجَافٍ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَمُرُّ بِالْجُرُفِ فَنَجِدُ إِبِلًا فَنَرْكَبُهَا، فَقَالَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ " وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفٍ، عَنِ الْجَارُودِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جارود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک دبلے اونٹ پر تھے، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم جرف مقام سے گزرے، ہم نے وہاں اونٹ پایا، لہٰذا ہم اس پر سوار ہو گئے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا انگار ہے۔“
حدیث نمبر: 12073
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنِ الْجَارُودِ الْعَبْدِيِّ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ؛ فَلَا تَقْرَبُنَّهَا " وَقَدْ قِيلَ: عَنْهُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنِ الْجَارُودِ. وَقَدْ قِيلَ: عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جارود عبدی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً منقول ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے، اسے اپنے قریب نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 12074
أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّا نُصِيبُ هَوَامِيَ الْإِبِلِ، فَقَالَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ - أَوِ الْمُؤْمِنِ - حَرْقُ النَّارِ ".
حافظ ثناء اللہ
مطرف بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ ہم کوئی پیاسا اونٹ پالیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان یا مومن کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے۔“
حدیث نمبر: 12075
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ: " مَنْ أَخَذَ ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اور وہ کعبہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے: ”جو گمشدہ چیز اٹھاتا ہے، وہ گمراہ ہے۔“
حدیث نمبر: 12076
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ قَالَ: سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ سَأَلَهُ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الضَّوَالِّ فَقَالَ: مَا تَرَى فِي الضَّوَالِّ؟ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَهُوَ ضَالٌّ "، قَالَ: مَا تَرَى فِي الضَّوَالِّ؟ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَهُوَ ضَالٌّ "، ثُمَّ سَكَتَ الرَّجُلُ، وَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُفْتِي النَّاسَ، يَقُولُ أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ: فَتْوًى كَثِيرَةً لَا أَحْفَظُهَا، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أُرَاكَ قَدْ ⦗٣١٦⦘ أَصْدَرْتَ النَّاسَ غَيْرِي، أَفَتَرَى لِي نَوْبَةً؟ قَالَ: " وَيْلَكَ لَا تَسْأَلْ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ، قَالَ: وَمَا أَشَدَّ مَسْأَلَتَكَ، قَالَ: اسْتَغْفِرِ اللهَ وَأَقْرِبْ إِلَيْهِ وَأَجِلَّ مَا صَنَعْتَ، قَالَ: أَتَدْرِي فِيمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إَنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا، قَالَ: كَانَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِهْزَاءً، فَيَقُولُ الرَّجُلُ: مَنْ أَبِي؟ وَيَقُولُ الرَّجُلُ تَضِلُّ نَاقَتُهُ: أَيْنَ نَاقَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ هَذِهِ الْآيَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوالجویریہ سے روایت ہے کہ میں نے بنی سلیم کے ایک دیہاتی سے سنا، اس نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے گمشدہ چیز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: جس نے گمشدہ چیز سے کھایا وہ گمراہ ہے، پھر وہ آدمی خاموش ہوگیا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما لوگوں میں فتویٰ دینے میں مصروف ہوگئے، ابوالجویریہ کہتے ہیں: وہ بہت زیادہ فتوے دیتے تھے، جنہیں میں یاد نہیں رکھ سکا۔ دیہاتی نے کہا: میں خیال کرتا ہوں کہ آپ ﷺ نے میرے علاوہ لوگوں کو روکا ہوا ہے، آپ کے خیال میں میرے لیے توبہ ہے؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیری ہلاکت ہو! اس بارے میں سوال نہ کر اور کہا: تیرا مسئلہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں جب سے میں نے یہ کام کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو جانتا ہے یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 101] ﴿اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں نقصان پہنچے﴾۔ جب آیت پڑھ کر فارغ ہوئے تو کہا: لوگ رسول اللہ ﷺ سے مذاقاً سوال کرتے تھے، آدمی کہتا: میرا باپ کون ہے؟ یا کہتا: میری اونٹنی گم ہوگئی ہے، میری اونٹنی کہاں ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حدیث نمبر: 12077
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَحْسَبُهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضَالَّةُ الْإِبِلِ الْمَكْتُومَةُ غَرَامَتُهَا وَمِثْلُهَا مَعَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”گمشدہ اونٹ کو چھپانے پر اس جیسا اونٹ اور اس کی مثل اس کے ساتھ دینا ہوگا۔“