حدیث نمبر: 12040
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطیہ دیا۔ میں نے عرض کیا: آپ ﷺ کسی محتاج کو دے دیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے مجھے مال دیا۔ میں نے عرض کیا: آپ ﷺ یہ کسی محتاج کو دے دیں، تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے لو، اسے پاس رکھو یا صدقہ کر دو اور جو مال تیرے پاس آئے کہ نہ تجھے اس کا خیال تھا اور نہ تو نے اس کا سوال کیا تھا تو اسے لے لے اور جو چیز نہ ملے اپنے آپ کو اس کا حریص نہ بنا۔“
حدیث نمبر: 12041
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ الْعَطَاءَ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ: أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا أَتَاكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " قَالَ سَالِمٌ: فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا، وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ. قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّعْدِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کسی محتاج کو دے دیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے لو صدقہ کر دو یا اپنے پاس رکھو اور جو مال اس طرح تیرے پاس ہو کہ تجھے اس کا خیال نہ ہو اور نہ تو نے وہ مانگا ہو اسے لے لو اور جو نہ ملے اس کی تمنا نہ کرو۔“ سالم رحمہ اللہ نے کہا: اسی وجہ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نہ لوگوں سے کسی قسم کا سوال کرتے تھے اور نہ عطیہ دی گئی چیز لوٹاتے تھے۔
حدیث نمبر: 12042
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ ⦗٣٠٥⦘ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ فِي أَهْلِ الشَّامِ مَرْضِيًّا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: عَلَامَ يُحِبُّكَ أَهْلُ الشَّامِ؟ قَالَ: أُغَازِيهِمْ وَأُوَاسِيهِمْ، قَالَ: فَعَرَضَ عَلَيْهِ عُمَرُ عَشَرَةَ آلَافٍ قَالَ: خُذْهَا وَاسْتَعِنْ بِهَا فِي غَزْوِكَ، قَالَ: إِنِّي عَنْهَا غَنِيٌّ، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلَيَّ مَالًا دُونَ الَّذِي عَرَضْتُ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ لِي، فَقَالَ لِي: " إِذَا آتَاكَ اللهُ مَالًا لَمْ تَسْأَلْهُ وَلَمْ تَشْرَهْ إِلَيْهِ نَفْسُكَ فَاقْبَلْهُ؛ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللهُ إِلَيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ شام کا ایک آدمی تھا، اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تجھے اہل شام کس وجہ سے پسند کرتے ہیں؟“ اس نے کہا: ”میں ان کے لیے غزوے میں جاتا ہوں اور ان سے دوستی «الْمُوَاسَاةِ» ”بھائی چارہ/غم خواری“ رکھتا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دس ہزار دیے اور کہا: ”انہیں پکڑ لو اور ان سے غزوے میں مدد طلب کرو۔“ اس نے کہا: ”میں ان سے بے پروا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس مال کے علاوہ مال دیا جو میں نے تجھے دیا ہے، میں نے آپ ﷺ سے کہا: جس طرح تم نے مجھ سے کہا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تجھے مال دے جس کا نہ تو نے سوال کیا ہو اور نہ تیرے دل میں اس کا خیال آیا ہو تو اسے قبول کر لے، اس لیے کہ وہ رزق ہی ہے جو اللہ نے تجھے دیا ہے۔““
حدیث نمبر: 12043
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَا: أنبأ اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ، فَقَالَتْ لِرَسُولِهِ: يَا بُنِيَّ، إِنِّي لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ: رُدُّوهُ عَلَيَّ، فَرَدُّوهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ: " يَا عَائِشَةُ، مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَاقْبَلِيهِ؛ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللهُ عَلَيْكِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف نفقہ اور پہننے کے لیے کپڑے وغیرہ بھیجے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے لانے والے سے کہا: اے بیٹے! میں کسی سے کوئی چیز نہیں لیتی، جب وہ چلا گیا تو کہا: اسے بلاؤ۔ پھر کہا: مجھے یاد آیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے عائشہ! جو تجھے بغیر مانگے کوئی چیز دے تو اسے قبول کرنا اس لیے کہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تجھے دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 12044
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ يُهْدِي إِلِيَّ بِهَدِيَّةٍ إِلَّا قَبِلْتُهَا، فأَمَّا الْمَسْأَلَةُ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْأَلُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے ہدیہ دیتا ہے، میں اسے قبول کرتا ہوں، لیکن میں کسی سے سوال نہیں کرتا۔“