کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کے ان افراد کے لیے نفلی صدقہ کے مباح ہونے کا بیان جن کے لیے فرض صدقہ (زکوٰۃ) حلال نہیں ہے
حدیث نمبر: 12038
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَأَحْسِبُهُ قَالَ: زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَصَدَّقَتْ بِمَالِهَا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَصَدَّقَ عَلَيْهِمْ، وَأَدْخَلَ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن حسن رحمہ اللہ اہل بیت میں سے نقل فرماتے ہیں اور راوی کے خیال میں وہ زید بن علی رحمہ اللہ ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ ﷺ نے اپنے مال کا بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب پر صدقہ کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صدقہ کیا ان پر اور ان کے ساتھ اور لوگوں کو بھی شامل کیا۔
حدیث نمبر: 12039
وَبِإِسْنَادِهِ أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ ⦗٣٠٤⦘ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَشْرَبُ مِنْ سِقَايَاتٍ كَانَ يَضَعُهَا النَّاسُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَقُلْتُ: أَوْ قِيلَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الصَّدَقَةُ الْمَفْرُوضَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ راستوں میں بنائے گئے پانی کے گھاٹوں سے پانی پیتے تھے جن کو لوگوں نے مکہ اور مدینہ کے درمیان بنایا تھا، میں نے کہا یا ان کو اس بارے میں کہا گیا تو انہوں نے کہا: ”ہم پر صرف فرضی صدقہ حرام کر دیا گیا۔“