کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: باپ کا اپنی اولاد کو ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینے کا بیان
حدیث نمبر: 12008
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أَتَى أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا، قَالَ " أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَارْدُدْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَاتِ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: " فَارْجِعْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نبی ﷺ کے پاس لائے اور کہا: میں نے اس بیٹے کو غلام کا عطیہ دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے سب بیٹوں کو عطیہ دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بھی واپس لوٹا دو۔“ «فَارْجِعْهُ» کے لفظ ہی ہیں۔
حدیث نمبر: 12009
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ هِبَةٌ ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدُ " هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی کے لیے حلال نہیں کہ کسی کو ہبہ کرے پھر اسے واپس لے سوائے والد کے۔“
حدیث نمبر: 12010
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدُ فِيمَا يُعْطِيهِ وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَالْكَلْبِ يَأَكُلُ حَتَّى إِذَا شَبِعَ تَقِيَّأَ، ثُمَّ عَادَ فَرَجَعَ فِي قَيْئِهِ " ⦗٢٩٧⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ عطیہ دے، پھر اسے واپس لے لے، سوائے والد کے جو اپنی اولاد کو عطیہ دیتا ہے اور اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے کتے کی طرح ہے کہ جب وہ کھا کر سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر اس قے کو چاٹ جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 12011
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُعْطِي عَطِيَّةً، أَوْ يَهَبُ هِبَةً، فَيَرْجِعُ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدُ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ " ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہ عطیہ دے یا ہبہ کرے، پھر اسے واپس لوٹائے، سوائے والد کے جو اپنی اولاد کو عطیہ دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 12012
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ، وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ مَطَرٍ وَعَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ہبہ کو واپس نہ لے سوائے والد کے اور ہبہ کو واپس لینے والا گویا اپنی قے کی طرف واپس آنے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 12013
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى التِّنِّيسِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ مَطَرٍ، وَعَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَرْجِعُ الرَّجُلُ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ، وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ رَوَاهُ مِنَ الْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا؛ فَحُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ حُجَّةٌ، وَعَامِرٌ الْأَحْوَلُ ثِقَةٌ، وَرُوِيَ عَنْ مَطَرٍ وَعَامِرٍ نَحْوُ رِوَايَةِ عَامِرٍ وَحْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی اپنے ہبہ کو واپس نہ لے سوائے والد کے اولاد سے اور ہبہ کو واپس لینے والا گویا اپنی قے کی طرف واپس آنے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 12014
وَفِيمَا بَلَغَنَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَقْبِضُ الرَّجُلُ مِنْ وَلَدِهِ مَا أَعْطَاهُ مَا لَمْ يَمُتْ، أَوْ يُسْتَهْلَكْ، أَوْ يَقَعْ فِيهِ دَيْنٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوقلابہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا: آدمی اپنی اولاد سے واپس لے سکتا ہے جو اس نے دیا جب تک وہ فوت نہ ہو یا ہلاک نہ ہو یا اس پر قرض واقع نہ ہو۔ [ضعیف]