کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: کھجور کے درختوں پر ان سے نکلنے والی نصف پیداوار یا کسی اور مقررہ حصے پر باہمی شرط کے ساتھ معاملہ (مساقات) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11621
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل خیبر سے معاملہ کیا کہ ”پھلوں اور اناج کی پیداوار میں نصف ہمارا اور نصف تمہارا ہو گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11621
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2329»
حدیث نمبر: 11622
وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الِإسْفَرَايِينِيُّ الْإِمَامُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ يَزْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھلوں اور اناج کی پیداوار میں نصف ہمارا اور نصف تمہارا ہوگا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11622
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11623
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا "، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو حجاز سے جلا وطن کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی خیبر کی فتح کے وقت یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا اور اس وقت خیبر کی زمین پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور تمام مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ جب یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے درخواست کی کہ انھیں یہاں ہی رہنے دیا جائے اور وہ زمین میں محنت کریں گے، جس کے صلے میں ان کو نصف پھل ملے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم تم کو برقرار رکھتے ہیں اس شرط پر کہ جب تک ہماری مرضی ہو۔“ پس وہ وہیں رہے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں انھیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11623
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11624
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ ⦗١٨٩⦘ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فَقَالَ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں اور نصرانیوں کو حجاز سے جلاوطن کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11624
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11625
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ، سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى النِّصْفِ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا "، فَكَانُوا فِيهَا كَذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَطَائِفَةٍ مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ، فَكَانَتِ الثَّمَرَةُ تُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ، وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمُسَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کو وہیں رہنے دیا جائے اس شرط پر کہ وہ خیبر کی زمین میں کام کریں گے اور جو پھل اور اناج ہوگا اس کا نصف ان کو ملے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم تمہیں اسی شرط پر برقرار رکھتے ہیں لیکن جب تک ہماری مرضی ہوگی۔“ وہ رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور کچھ عرصہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اسی شرط پر قائم رہے اور خیبر کا نصف مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس سے خمس لیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11625
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11626
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ، فَغَلَبَ عَلَى الْأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ نُصْلِحُهَا وَنَقُومُ عَلَيْهَا، وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا لِأَصْحَابِهِ غِلْمَانٌ يَقُومُونَ عَلَيْهَا، فَأَعْطَاهُمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ مِنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِيهِمْ فِي كُلِّ عَامٍ فَيَخْرُصُهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يُضَمِّنُهُمُ الشَّطْرَ، فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَامٍ شِدَّةَ خَرْصِهِ، وَأَرَادُوا أَنْ يَرْشُوهُ، فَقَالَ: " يَا أَعْدَاءَ اللهِ، تُطْعِمُونِي السُّحْتَ وَلَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلِيَّ، وَلَأَنْتُمْ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ مِنَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلَا يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ وَحُبِّي إِيَّاهُ عَلَى أَنْ لَا أَعْدِلَ عَلَيْكُمْ " فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اہل خیبر سے لڑائی کی یہاں تک کہ ان کو ایک قلعے کی طرف قید کردیا اور زمین اور باغات پر فتح پا لی۔ انہوں نے کہا: ”اے محمد! ہمیں یہیں رہنے دیا جائے۔ ہم ان باغات کی دیکھ بھال کریں گے“ اور نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی خدام نہ تھے جو وہاں رہتے۔ نبی ﷺ نے خیبر ان کو اس شرط پر دے دیا کہ وہ پھلوں، اناج یا جو بھی چیز ہوگی اس کا نصف دیں گے اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہر سال ان کے پاس جاتے، خرص (اندازہ) لگاتے پھر نصف ان پر لازم کردیتے۔ انہوں نے ایک سال سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سختی کے ساتھ خرص لگانے کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی اور انہوں نے رشوت دینے کا ارادہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے دشمنو! تم مجھے حرام کھلانا چاہتے ہو، حالانکہ میں نے تمہاری طرف بہترین آدمی کو بھیجا ہے اور تم خنزیر اور بندر سے بھی زیادہ بغض والے ہو۔ میرے نزدیک تمہارا بغض اور اس کی محبت مجھے اس بات پر مجبور نہ کرے گی کہ میں تمہارے ساتھ عدل نہ کروں۔“ پھر انہوں نے کہا: ”اسی عدل کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11626
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الطبراني في الاوسط 3321»
حدیث نمبر: 11627
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَاقَى يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى تِلْكَ الْأَمْوَالِ عَلَى الشَّطْرِ، وَسِهَامُهُمْ مَعْلُومَةٌ، وَشَرَطَ عَلَيْهِمْ إِنَّا إِذَا شِئْنَا أَخْرَجْنَاكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے خیبر کے بارے میں نصف پر معاملہ طے کیا اور ان کے حصے متعین کیے اور ان پر شرط عائد کی کہ ”ہم جب چاہیں گے تم کو نکال دیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11627
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ الدارقطني 2988»
حدیث نمبر: 11628
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا الْمُعَافَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ، فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ، وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ، فَخَزَرَ النَّخْلَ، وَهُوَ الَّذِي يَدْعُوهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، فَقَالَ: " فِي ذَا كَذَا وَكَذَا "، فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، قَالَ: فَأَنَا آخُذُ النَّخْلَ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ "، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ، وَبِهِ قَامَتِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب خیبر فتح ہوا اور ان پر شرط عائد کی زمین کی ہر چیز یعنی، سونا چاندی پر، خیبر والوں نے کہا: ہم اس زمین کو بہتر جانتے ہیں، لہٰذا ہمیں دے دیں۔ ہم اس میں کام کریں گے اور پھلوں کا نصف ہمارا ہوگا اور نصف تمہارا۔ آپ ﷺ نے اس شرط پر خیبر کی زمین ان کو دے دی۔ جب پھل تیار ہو گئے تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا۔ انہوں نے پھلوں کا اندازہ لگایا، جسے اہل مدینہ «الْخَرْصُ» کہتے تھے۔ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اس طرح ہے۔ انہوں نے کہا: اے ابن رواحہ! آپ زیادہ لے رہے ہیں۔ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پھلوں کا نصف تم کو دوں گا۔ انہوں نے کہا: یہی وہ حق ہے جس سے آسمان اور زمین قائم ہیں، ہم وہ لے کر راضی ہیں جو آپ نے کہا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11628
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد 2255»
حدیث نمبر: 11629
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ صَالِحٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ دَعَا يَهُودَ فَقَالَ: " نُعْطِيكُمْ نِصْفَ الثَّمَرِ عَلَى أَنْ تَعْمَلُوها، أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ "، قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللهِ يَخْرُصُهَا ثُمَّ يُخَيِّرُهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهَا أَوْ يَتْرُكُوهَا، وَأَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ ذَلِكَ فَاشْتَكَوْا إِلَيْهِ، فَدَعَا عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَذَكَرَ لَهُ مَا ذَكَرُوا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، هُمْ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءُوا أَخَذُوهَا، وَإِنْ تَرَكُوهَا أَخَذْنَاهَا، فَرَضِيَتِ الْيَهُودُ وَقَالَتْ: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ: " لَا يَجْتَمِعُ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ "، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَكُمْ عَلَى هَذِهِ الْأَمْوَالِ وَشَرَطَ لَكُمْ أَنْ يُقِرَّكُمْ، يَعْنِي مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ، وَقَدْ أَذِنَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِجْلَائِكُمْ حِينَ عَهِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَهِدَ، فَأَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّ يَهُودِيٍّ وَنَصْرَانِيٍّ فِي أَرْضِ الْحِجَازِ، ثُمَّ قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر فتح کیا تو یہودیوں کو بلایا اور فرمایا: ”ہم تم کو پھلوں کا نصف دیں گے اس شرط پر کہ تم اس میں کام کرو گے۔ میں تمہیں ٹھہراتا ہوں جیسا کہ اللہ نے تم کو ٹھہرایا ہے۔“ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابن رواحہ کو بھیجا کرتے تھے، وہ اندازہ لگاتے، پھر انہیں اختیار دیتے کہ اسے رکھ لیں یا چھوڑ دیں اور یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے شکایت کی۔ آپ ﷺ نے ابن رواحہ کو بلایا اور بتایا جو انہوں نے بیان کیا تھا۔ عبداللہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! اس میں انہیں اختیار ہوتا ہے، اگر چاہیں تو پکڑ لیں یا چھوڑ دیں تو ہم اسے رکھ لیں گے۔“ پس یہودی راضی ہو گئے اور انہوں نے کہا: ”اسی کے ساتھ آسمان اور زمین قائم ہیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مرض میں فرمایا جس میں آپ کی وفات ہوئی کہ: ”جزیرہ عرب میں دو دین جمع نہیں ہو سکتے۔“ جب یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے خیبر کے یہودیوں کی طرف پیغام بھیجا کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے تم کو ان اموال پر عامل بنایا ہے اور شرط لگائی تھی کہ وہ تم کو برقرار رکھیں گے۔“ یعنی جتنی دیر اللہ برقرار رکھے گا اور تحقیق اللہ نے تمہاری جلاوطنی کی اجازت دے دی تھی جب رسول اللہ ﷺ کا زمانہ تھا۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلاوطن کر دیا۔ ہر یہودی اور عیسائی کو حجاز کی زمین سے نکال دیا۔ پھر اس کو اہل حدیبیہ کے درمیان تقسیم کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11629
درجۂ حدیث محدثین: منكر الاسناد
تخریج حدیث «منكر الاسناد»