کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ”عاریت (مانگی ہوئی چیز) واپس کی جائے گی“۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّيْنُ مَقْضِيٌّ، وَالْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرض ادا کرنا فرض ہے اور عاریتاً لی گئی چیز واپس کرنا ہوتی ہے اور جس جانور کو دودھ کے لیے لیا ہو اسے واپس کرنا چاہیے اور ذمہ میں لینے والا ضامن ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11474
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، أنبأ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَدْرَاعًا وَسِلَاحًا فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَ عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ؟ قَالَ: " عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حنین میں صفوان بن امیہ سے زرہیں اور اسلحہ عاریتاً لیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! عاریتاً لی گئی چیز واپس کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے بھی یہی فرمایا: ”عاریتاً لی گئی چیز واپس کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11475
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ تَفْسِيرِ الْعَارِيَةِ الْمُؤَدَّاةِ قَالَ: أَسْلَمَ قَوْمٌ فِي أَيْدِيهِمْ عَوَارِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالُوا: قَدْ أَحْرَزَ لَنَا الْإِسْلَامُ مَا بِأَيْدِينَا مِنْ عَوَارِي الْمُشْرِكِينَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ الْإِسْلَامَ لَا يُحْرِزُ لَكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ، الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ "، فَأَدَّى الْقَوْمُ مَا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ تِلْكَ الْعَوَارِي قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا مُرْسَلٌ، وَلَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ» کی تفسیر میں فرمایا: ایک قوم نے اسلام قبول کیا، ان کے پاس مشرکوں سے لی ہوئی عاریتاً چیزیں تھیں۔ انہوں نے کہا: اسلام نے مشرکوں کی ان چیزوں کو ہمارے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ یہ بات آپ ﷺ کے پاس پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام ایسی چیز تمہارے قبضے میں نہیں دیتا جو تمہاری ملکیت نہ ہو۔ عاریتاً لی گئی چیز واپس کرنی چاہیے۔“ تو اس قوم نے وہ اشیاء واپس کر دیں۔
علی (دارقطنی) نے کہا: یہ مرسل ہے اور اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11476
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»