حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قِرَاءَةً، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَارَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَسَأَلَهُ أَدْرَاعًا عِنْدَهُ، مِائَةَ دِرْعٍ وَمَا يُصْلِحُهَا مِنْ عُدَّتِهَا، فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ: " بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ حَتَّى نُؤَدِّيَهَا عَلَيْكَ "، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حنین کی طرف نکلے، پھر آپ نے صفوان بن امیہ کی طرف ایک آدمی بھیجا اور ان سے زرہوں کا سوال کیا۔ ان کے پاس ایک سو زرہیں تھیں۔ انہوں نے کہا: ”اے محمد! کیا زبردستی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ عاریتاً ہیں، لوٹائی جائیں گی۔ ہم تمہیں واپس کریں گے۔“ پھر آپ ﷺ غزوے میں چلے گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَقَالَ: أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ: " لَا، بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ " رَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
امیہ بن صفوان بن امیہ اپنے والد (سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے حنین کے دن عاریتاً زرہیں لیں۔ اس (صفوان رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”زبردستی اے محمد!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ عاریتاً، واپس کریں گے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ آلِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَقَالُوا: اسْتَعَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٤٨⦘.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ، صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے اسلحہ عاریتاً لیا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: عاریتاً یا زبردستی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عاریتاً۔“ اس نے تیس سے چالیس زرہیں دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حنین کی جنگ لڑی، جب اللہ نے مشرکوں کو شکست دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”صفوان کی زرہوں کو جمع کرو۔“ صحابہ نے چند زرہیں گم پائیں، آپ ﷺ نے صفوان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اگر تو چاہے تو ہم تاوان دے دیتے ہیں۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! جو آج میرے دل میں ہے (ایمان) وہ اس دن نہ تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا صَفْوَانُ، هَلْ عِنْدَكَ سِلَاحٌ؟ " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
آلِ صفوان رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے صفوان! کیا تیرے پاس اسلحہ ہے؟“ پھر اسی معنیٰ میں حدیث ذکر کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ أَعَارَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلَاحًا هِيَ ثَمَانُونَ دِرْعًا فَقَالَ لَهُ: أَعَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ أَمْ غَصْبًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ " وَبَعْضُ هَذِهِ الْأَخْبَارِ وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا، فَإِنَّهُ يَقْوَى بِشَوَاهِدِهِ مَعَ مَا تَقَدَّمَ مِنَ الْمَوْصُولِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو عاریتاً اسلحہ دیا اور وہ 80 درعیں تھیں، اس نے آپ ﷺ سے کہا: عاریتاً یا زبردستی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عاریتاً ہیں، واپس کریں گے۔“
ان میں سے بعض روایات اگرچہ مرسل ہیں، لیکن پہلے گزری ہوئی موصول روایات کے ساتھ اپنے شواہد کی بنا پر قوی ہو جاتی ہیں، واللہ اعلم۔
ان میں سے بعض روایات اگرچہ مرسل ہیں، لیکن پہلے گزری ہوئی موصول روایات کے ساتھ اپنے شواہد کی بنا پر قوی ہو جاتی ہیں، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَعْقِلِيُّ، ثنا الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ " ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ حَدِيثَهُ فَقَالَ: هُوَ أَمِينُكَ لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہاتھ پر لازم ہے جو اس نے لیا اسے ادا کر دے۔“ پھر حسن (راوی) حدیث بھول گئے، فرمایا: ”وہ تیرا امانت دار ہے ضامن نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ " يَضْمَنُ الْعَارِيَةَ، وَكَتَبَ إِلِيَّ أَنْ ضَمِّنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما عاریتاً چیز پر ضمانت لیا کرتے تھے اور مجھے لکھا کہ تو ضامن لیا کر۔