کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عاریت (کوئی چیز مانگ کر استعمال کرنے) کے جواز اور اس کی ترغیب کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ} [الماعون: 4] {الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون: 5] {الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ وَيَمَنْعَوُنَ الْمَاعُونَ}.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ﴾ ”پس ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔“ [سورة الماعون: 4] ﴿الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾ ”جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔“ [سورة الماعون: 5] ﴿الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾ ”جو دکھاوا کرتے ہیں، اور برتنے کی معمولی چیزیں (بھی مانگے) نہیں دیتے۔“ [سورة الماعون: 6-7]
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَكُنَّا نَعُدُّ الْمَعْرُوفَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِدْرَ وَالدَّلْوَ وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شفیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ”ہر اچھا کام صدقہ ہے“ اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہنڈیا اور ڈول اور اس جیسی چیزوں کو معروف شمار کیا کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ الصَّفَّارُ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَكُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِدْرَ وَالدَّلْوَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
اور ہم نبی ﷺ کے زمانے میں ہنڈیا اور ڈول کو ماعون شمار کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {الْمَاعُونَ} [الماعون: ٧]، قَالَ: " هُوَ مَنْعُ الْفَأْسِ وَالدَّلْوِ وَالْقِدْرِ وَنَحْوِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ﴿الْمَاعُونَ﴾ [سورة الماعون: 7] کے بارے میں منقول ہے کہ کلہاڑی، ڈول اور ہنڈیا دینے سے روک لینا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ} [الماعون: ٧]، قَالَ: " عَارِيَةُ الْمَتَاعِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ﴿وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾ [سورة الماعون: 7] کا مطلب ہے فائدہ کی چیز عاریتاً دینے سے منع کرنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ بَسَّامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: " الْمَاعُونُ: الْفَأْسُ وَالْقِدْرُ وَالدَّلْوُ، قُلْتُ: فَمَنْ مَنَعَ هَذَا فَلَهُ الْوَيْلُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَلَهُ الْوَيْلُ، مَنْ رَايَا فِي صَلَاتِهِ، وَسَهَا عَنْهَا، وَمَنَعَ هَذَا، فَلَهُ الْوَيْلُ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ﴿الْمَاعُونَ﴾ [سورة الماعون: 7] سے مراد کلہاڑی، ڈول اور ہنڈیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جو ان چیزوں کو روکے اس کے لیے ہلاکت ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن جو ان (تینوں باتوں) کو جمع کر لے اس کے لیے ہلاکت ہے، یعنی جو نماز میں دکھلاوا کرے اور اس سے غافل رہے اور ان چیزوں کو روک لے اس کے لیے ہلاکت ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ الْمَنْدُوبُ، فَرَكِبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: " مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ مدینہ میں دشمن کا ڈر تھا، رسول اللہ ﷺ نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے گھوڑا عاریتاً لیا، اس (گھوڑے) کا نام «مَنْدُوب» تھا۔ آپ ﷺ اس پر سوار ہوئے جب واپس آئے تو فرمایا: ”ہم نے تو کوئی ڈر والی چیز محسوس نہیں کی، لیکن ہم نے اس (گھوڑے) کو سمندر کی طرح پایا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا جَارِيَةٌ لَهَا عَلَيْهَا دِرْعُ قُطْنٍ ثَمَنُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، قَالَتْ: " ارْفَعْ بَصَرَكَ إِلَى جَارِيَتِي، انْظُرْ إِلَيْهَا؛ فَإِنَّهَا تُزْهَى عَلَى أَنْ تَلْبَسَهُ فِي الْبَيْتِ، وَقَدْ كَانَ لِي مِنْهُنَّ دِرْعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا أَرْسَلَتْ إِلِيَّ تَسْتَعِيرُهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالواحد بن ایمن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ ان کے پاس ایک لونڈی تھی، اس پر ایک سوتی کرتا تھی جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ”میری اس لونڈی کی طرف دیکھو، اسے گھر میں اس طرح کے کپڑے پہننے میں کوئی دلچسپی نہیں، حالانکہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ کے دور میں مدینہ میں اس جیسا ایک کرتا تھا۔ جو بھی عورت دلہن بنتی وہ مجھ سے یہ کرتا عاریتاً لیتی تھی۔“