کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: عمر کے لحاظ سے بالغ ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " عَرَضَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَأَجَازَنِي " فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعُمَرُ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدُّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنِ افْرِضُوا ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَأَلْحِقُوهُ بِالْعِيَالِ لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے لڑائی کے لیے مجھے حاضر دیکھا اور میں اس وقت چودہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے مجھے اجازت نہیں دی۔ پھر جب خندق کا موقع آیا تو میں اس وقت پندرہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔ پھر میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس آیا اور وہ ان دنوں خلیفہ تھے، میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: بڑے اور چھوٹے کے درمیان یہی حد ہے اور انہوں نے اپنے گورنروں کی طرف لکھا: پندرہ سال والے پر فرض کرو، جو اس سے کم عمر ہوں انہیں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ملاؤ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11297
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2664، مسلم 1868»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرَيْشٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَعَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي. قَالَ نَافِعٌ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَاجْعَلُوهُ فِي الْعِيَالِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ من وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ..
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا ہے، مگر اس میں صرف یہ زیادتی ہے: ”اور خندق والے دن مجھے دیکھا اور میں اس وقت پندرہ سال کا تھا تو آپ ﷺ نے مجھے جانے دیا۔“ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس آیا، پھر حدیث بیان کی اور انہوں نے یہ بھی کہا: ”اور جو اس سے کم عمر کا ہو اسے اس کے اہل و عیال کے ساتھ کر دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11298
وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَزَادَ فِيهِ عِنْدَ قَوْلِهِ: فَلَمْ يُجِزْنِي: وَلَمْ يَرَنِي بَلَغْتُ، وَأَخْبَرَنِيهِ الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْإِمَامُ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: فِي الْعِيَالِ. قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ حَرْفٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ قَوْلُهُ: وَلَمْ يَرَنِي بَلَغْتُ.
حافظ ثناء اللہ
مذکورہ حدیث کی طرح ہے، اس میں صرف عیال کے الفاظ نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11299
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَاسْتَصْغَرَنِي، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ عَامَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي " ⦗٩٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ: فَاسْتَصْغَرَنِي فَرَدَّنِي مَعَ الْغِلْمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ احد کے دن میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا اور اس وقت میری عمر چودہ سال تھی تو آپ ﷺ نے مجھے چھوٹا قرار دیا۔ پھر اگلے سال خندق کے موقع پر مجھے پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ ﷺ نے مجھے لڑائی کے لیے جانے دیا۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ ”آپ ﷺ نے مجھے چھوٹا قرار دیا اور مجھے بچوں کی طرف لوٹا دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " عَرَضَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَاسْتَصْغَرَنِي وَرَدَّنِي مَعَ الْغِلْمَانِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ عَرَضَنِي وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، قَالَ: فَأَجَازَنِي " قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَنْ أَجِيزُوا فِي الْفَرْضِ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: لَا أَرَى نَافِعًا إِلَّا حَدَّثَهُ بِهَذَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَفِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبِلَ ابْنَ عُمَرَ وَرَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُمَا ابْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً. رَوَاهُ إِسْحَاقُ عَنْ رَوْحٍ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ احد کے دن مجھے دیکھا، میں اس وقت چودہ سال کا تھا۔ آپ ﷺ نے مجھے چھوٹا قرار دیا اور مجھے بچوں میں واپس بھیج دیا۔ جب غزوۂ خندق کا دن آیا تو آپ ﷺ نے مجھے دیکھا، میں اس وقت پندرہ سال کا ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے مجھے جہاد میں شرکت کی اجازت دے دی۔ عبیداللہ کہتے ہیں اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا کہ پندرہ سال والے کو فرض (جہاد) میں شامل کرو۔ ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں: نبی ﷺ نے سیدنا ابن عمر اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کو غزوۂ خندق کے دن قبول فرما لیا تھا اور وہ اس وقت پندرہ سال کی عمر کے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11301
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، لَمْ يُجِزْنِي فِي الْمُقَاتِلَةِ، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي فِي الْمُقَاتِلَةِ، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي فِي الْمُقَاتِلَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بدر والے دن مجھے نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، میں اس وقت تیرہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے مجھے مجاہدین میں شامل نہیں کیا۔ پھر مجھے احد والے دن پیش کیا گیا، اس وقت میں چودہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے مجاہدین میں مجھے شامل نہیں کیا، پھر مجھے خندق والے دن پیش کیا گیا، اس وقت میں پندرہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے مجاہدین میں مجھے شامل کر لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11302
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: " هَذِهِ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي قَاتَلَ فِيهَا: يَوْمُ بَدْرٍ فِي رَمَضَانَ مِنْ سَنَةِ اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ قَاتَلَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَاتَلَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ وَبَنِي قُرَيْظَةَ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ، ثُمَّ قَاتَلَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَبَنِي لِحْيَانَ فِي شَعْبَانَ مِنْ سَنَةِ خَمْسٍ، ثُمَّ قَاتَلَ يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْ سَنَةِ سِتٍّ، ثُمَّ قَاتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ مِنْ سَنَةِ ثَمَانٍ، وَقَاتَلَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَحَاصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کے مغازی ہیں، رمضان 2ھ میں غزوہ بدر ہوا۔ پھر آپ ﷺ نے شوال 3ھ میں غزوہ احد لڑی۔ 4ھ میں غزوہ خندق جسے احزاب بھی کہتے ہیں اور غزوہ بنی قریظہ لڑی۔ پھر شعبان 5ھ میں غزوہ بنی مصطلق اور غزوہ بنی لحیان لڑی، 6ھ میں غزوہ خیبر۔ رمضان 8ھ میں غزوہ فتح مکہ اور شوال 8ھ میں غزوہ حنین اور اہل طائف کا محاصرہ کیا۔ پھر راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11303
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 4026»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: هَذَا ذِكْرُ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي قَاتَلَ فِيهَا، قَالَ يَعْقُوبُ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا ⦗٩٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: هَذَا ذِكْرُ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي قَاتَلَ فِيهَا، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ رِوَايَةِ حَنْبَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کے مغازی کا تذکرہ ہے، جن میں آپ نے جہاد کیا (دوسری سند میں) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کے مغازی کا تذکرہ ہے، جن میں آپ نے جہاد کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11304
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ قَالَ: " كَانَتْ بَدْرٌ لِسَنَةٍ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَأُحُدٌ بَعْدَهَا بِسَنَةٍ وَالْخَنْدَقُ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَبَنِي الْمُصْطَلِقِ سَنَةَ خَمْسٍ وَخَيْبَرُ سَنَةَ سِتٍّ، وَالْحُدَيْبِيَةُ فِي سَنَةِ خَيْبَرَ، وَالْفَتْحُ سَنَةَ ثَمَانٍ وَقُرَيْظَةُ فِي سَنَةِ الْخَنْدَقِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غزوہ بدر آپ ﷺ کے مدینہ ہجرت کر کے آنے کے ڈیڑھ سال بعد ہوئی اور غزوہ احد ایک سال بعد ہوئی اور خندق چار سال بعد اور بنی مصطلق پانچ سال بعد اور غزوہ خیبر چھٹے سال اور حدیبیہ بھی اسی سال اور فتح مکہ آٹھویں سال اور غزوہ بنو قریظہ خندق والے سال ہوا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11305
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: " كَانَتْ غَزْوَةُ أُحُدٍ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَلَاثٍ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق فرماتے ہیں: غزوہ احد شوال 3 ھ میں ہوا اور غزوہ خندق شوال 5 ھ میں ہوا۔ شیخ فرماتے ہیں: غزوہ خندق کے بارے میں عروہ، ابن شہاب اور مالک بن انس کا قول ہے کہ وہ 4 ھ میں ہوا۔ یہ اس شخص کے قول سے بہتر ہے جو کہتا ہے کہ غزوہ خندق پانچ ھ میں ہوا تھا؛ کیونکہ ان کا قول سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے موافق ہے۔ ہاں اہل علم نے دونوں اقوال کے درمیان تطبیق دینے کی کوشش کی ہے۔ غزوہ احد ہجرت کے اڑھائی سال بعد ہوئی اور خندق ساڑھے چار سال بعد ہوئی اور جس نے چار سال کہا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ چار سال مکمل کرنے کے بعد اور پانچواں سال ختم ہونے سے پہلے؛ اور جس شخص نے پانچ سال کہے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ میں 14 سال کا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ میں چودھویں میں داخل ہو چکا تھا اور غزوہ خندق میں ان کا کہنا کہ میں 15 سال کا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ میں 15 مکمل کر چکا تھا، لیکن انہوں نے زیادتی نقل نہیں کی؛ کیونکہ وہ دلالت حال اور پندرہ سال بغیر زیادتی کے کا مطلب سمجھتے تھے۔ «وَاللّٰہُ اَعْلَمُ»
اور یہ میرے نزدیک زیادہ درست ہے کیونکہ بتایا گیا ہے کہ احد اور خندق کے درمیان دو سال کا فرق تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11306
وَأَمَّا الَّذِي رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِكَانِيُّ، عَنْ أَبِي مُقَاتِلٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْغُلَامِ حَتَّى يَحْتَلِمَ " فَإِنْ لَمْ يَحْتَلِمْ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ ثَمَانِ عَشْرَةَ فَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ التَّوْبَكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِكَانِيُّ، فذَكَرَهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ مَوْضُوعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ هَذَا كَانَ مَعْرُوفًا بِوَضْعِ الْحَدِيثِ، نَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُذْلَانِ، وَرَوَى قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا: " الصَّبِيُّ إِذَا بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَةَ أُقِيمَتْ عَلَيْهِ الْحُدُودُ "، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ لَا يَصِحُّ، وَهُوَ بِإِسْنَادِهِ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ ”تین چیزوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچے سے حتی کہ احتلام ہو جائے، اگر احتلام نہ ہو تو اٹھارہ سال کا ہو جائے تب تک۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت فرماتے ہیں: ”بچہ جب پندرہ سال کا ہو جائے تو اس پر حد قائم ہو گی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11307