حدیث نمبر: 11297
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " عَرَضَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَأَجَازَنِي " فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعُمَرُ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدُّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنِ افْرِضُوا ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَأَلْحِقُوهُ بِالْعِيَالِ لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے لڑائی کے لیے مجھے حاضر دیکھا اور میں اس وقت چودہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے مجھے اجازت نہیں دی۔ پھر جب خندق کا موقع آیا تو میں اس وقت پندرہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔ پھر میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس آیا اور وہ ان دنوں خلیفہ تھے، میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: بڑے اور چھوٹے کے درمیان یہی حد ہے اور انہوں نے اپنے گورنروں کی طرف لکھا: پندرہ سال والے پر فرض کرو، جو اس سے کم عمر ہوں انہیں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ملاؤ۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11297
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2664، مسلم 1868»