کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مقروض کو قید کرنے کا بیان جب اس کا مال ظاہر نہ ہو، اور مالدار شخص کے ٹال مٹول کرنے کی وعید کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ" قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي عِرْضَهُ، أَنْ يَقُولَ: ظَلَمَنِي فِي حَقِّي، وَعُقُوبَتُهُ يُسْجَنُ. فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد (سیدنا شرید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس مال ہو اور وہ قرض کی ادائیگی میں دیر کرے تو اس کی عزت اور اسے سزا دینا جائز ہو جاتا ہے۔“ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عزت حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہے کہ اس نے میرا حق کھایا ہے اور سزا کے جائز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے قید کیا جائے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الضَّحَّاكُ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ وَهُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد (سیدنا شرید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس مال ہو اور وہ قرض کی ادائیگی میں دیر کرے تو اس کی عزت حلال ہو جاتی ہے اور سزا دینا بھی جائز ہو جاتا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ فَذَكَرَهُ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهُ، يُغَلِّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتُهُ يُحْبَسُ لَهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن میمون سے بھی یہی حدیث منقول ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی عزت حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے سختی سے بات کی جائے اور سزا کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس (قرض) کی وجہ سے قید کیا جائے۔