السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: حبس من عليه الدين إذا لم يظهر ماله، وما على الغني في المطل باب: مقروض کو قید کرنے کا بیان جب اس کا مال ظاہر نہ ہو، اور مالدار شخص کے ٹال مٹول کرنے کی وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 11281
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ فَذَكَرَهُ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهُ، يُغَلِّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتُهُ يُحْبَسُ لَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غنی آدمی کا دیر کرنا بھی ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو قرض کی ادائیگی میں دیر کرنے والے کے خلاف بطور سفارش بلایا جائے تو اسے جانا چاہیے۔“